سنن ترمذي
كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ باب: پیتے وقت برتن میں سانس لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَيُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا وَيَقُولُ : هُوَ أَمْرَأُ وَأَرْوَى " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَرَوَى عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا " .´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے : ( پانی پینے کا یہ طریقہ ) ” زیادہ خوشگوار اور سیراب کن ہوتا ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اسے ہشام دستوائی نے بھی ابوعصام کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے ، اور عزرہ بن ثابت نے ثمامہ سے ، ثمامہ نے انس سے روایت کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے ۔
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´اس سند سے بھی انس بن مالک سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے: (پانی پینے کا یہ طریقہ) " زیادہ خوشگوار اور سیراب کن ہوتا ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1884]
وضاحت:
1؎:
معلوم ہواکہ پینے والی چیز تین سانس میں پی جائے، اور سانس لیتے وقت برتن سے منہ ہٹا کر سانس لی جائے، اس سے معدہ پر یکبارگی بوجھ نہیں پڑتا، اور اس میں حیوانوں سے مشابہت بھی نہیں پائی جاتی، دوسری بات یہ ہے کہ پانی کے برتن میں سانس لینے سے تھوک اور جراثیم وغیرہ جانے کا جو خطرہ ہے اس سے حفاظت ہوجاتی ہے۔
(1)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پانی پیتے وقت ایک ہی سانس سے نہ پیا جائے بلکہ اس دوران میں تین سانس لیے جائیں اور سانس لیتے وقت برتن کو منہ سے الگ کر دیا جائے جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی وضاحت ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب کوئی پانی وغیرہ پیے تو اسے برتن میں سانس نہیں لینا چاہیے۔
اگر دوبارہ پینا چاہے تو برتن منہ سے ہٹائے، پھر چاہے تو دوبارہ مزید پی لے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الأشربة، حدیث: 3427)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے طبرانی کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیتے وقت تین سانس لیتے تھے۔
جب پیالہ منہ کے قریب کرتے تو بسم اللہ پڑھتے اور جب اسے منہ سے ہٹاتے تو الحمدللہ پڑھتے۔
اس طرح تین دفعہ کرتے تھے۔
(المعجم الأوسط للطبراني: 117/10، والصحیحة للألباني، حدیث: 1277)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ برتن سے تین سانسوں میں پیتے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تین سانسوں میں پیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3416]
فوائد ومسائل: تین بار سانس لینے کامطلب یہ ہے کہ تھوڑا سا پانی پی کر برتن منہ سے ہٹا لیا جائے پھر دوبارہ اور سہ بارہ پانی پیا جائے جیسے حدیث: 3427 میں وضاحت ہے۔