حدیث نمبر: 1881
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ، عَنْ الْجَارُودِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَنَسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ الْجَارُودِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرُوِيَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ الْجَارُودِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ " وَالْجَارُودُ هُوَ ابْنُ الْمُعَلَّى الْعَبْدِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيُقَالُ الْجَارُودُ بْنُ الْعَلَاءِ أَيْضًا ، وَالصَّحِيحُ ابْنُ الْمُعَلَّى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جارود بن معلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب حسن ہے ، ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے اس حدیث کو «عن سعيد عن قتادة عن أبي مسلم عن الجارود عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے ، اور یہ حدیث بطریق : «عن قتادة عن يزيد بن عبد الله ابن الشخير عن أبي مسلم عن الجارود أن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” مسلمان کی گری ہوئی چیز ( یعنی اس پر قبضہ کرنے کی نیت سے ) اٹھانا آگ میں جلنے کا سبب ہے “ ، ۳- اس باب میں ابو سعید خدری ، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1881
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بما قبله (1879)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 3177) (صحیح) (سند میں ابو مسلم جذمی مقبول عند المتابعہ ہیں، ورنہ لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث رقم 1879 سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت کا بیان۔`
جارود بن معلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1881]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے پہلے والی حدیث سے معلوم ہواکہ کھڑے ہوکر کھانا پینا منع ہے، اس حدیث سے اس کے جواز کا پتہ چلتا ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہ صورت ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا (یعنی نہ پینا بہتراوراچھاہے) جب کہ اس حدیث کو کراہت کے ساتھ جواز پر محمول کیاجائے گا۔
یعنی جہاں مجبوری ہووہاں ایساکرناجائزہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1881 سے ماخوذ ہے۔