سنن ترمذي
كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الشُّرْبِ، قَائِمًا باب: کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ، عَنْ الْجَارُودِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَنَسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ الْجَارُودِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرُوِيَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ الْجَارُودِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ " وَالْجَارُودُ هُوَ ابْنُ الْمُعَلَّى الْعَبْدِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيُقَالُ الْجَارُودُ بْنُ الْعَلَاءِ أَيْضًا ، وَالصَّحِيحُ ابْنُ الْمُعَلَّى .´جارود بن معلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب حسن ہے ، ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے اس حدیث کو «عن سعيد عن قتادة عن أبي مسلم عن الجارود عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے ، اور یہ حدیث بطریق : «عن قتادة عن يزيد بن عبد الله ابن الشخير عن أبي مسلم عن الجارود أن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” مسلمان کی گری ہوئی چیز ( یعنی اس پر قبضہ کرنے کی نیت سے ) اٹھانا آگ میں جلنے کا سبب ہے “ ، ۳- اس باب میں ابو سعید خدری ، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جارود بن معلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1881]
وضاحت:
1؎:
اس سے پہلے والی حدیث سے معلوم ہواکہ کھڑے ہوکر کھانا پینا منع ہے، اس حدیث سے اس کے جواز کا پتہ چلتا ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہ صورت ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا (یعنی نہ پینا بہتراوراچھاہے) جب کہ اس حدیث کو کراہت کے ساتھ جواز پر محمول کیاجائے گا۔
یعنی جہاں مجبوری ہووہاں ایساکرناجائزہے۔