حدیث نمبر: 1880
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَال : " كُنَّا نَأْكُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَمْشِي ، وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَرَوَى عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ أَبِي الْبَزَرِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبُو الْبَزَرِيِّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عُطَارِدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چلتے ہوئے کھاتے تھے اور کھڑے ہو کر پیتے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث «عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر» کی سند سے صحیح غریب ہے ، ۲- عمران بن حدیر نے اس حدیث کو ابوالبزری کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے ، ۳- ابوالبزری کا نام یزید بن عطارد ہے ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے پہلے والی حدیث سے معلوم ہوا کہ کھڑے ہو کر کھانا پینا منع ہے، اس حدیث سے اس کے جواز کا پتہ چلتا ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہ صورت ہے کہ انس رضی الله عنہ کی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا (یعنی نہ پینا بہتر اور اچھا ہے) جب کہ اس حدیث کو کراہت کے ساتھ جواز پر محمول کیا جائے گا۔ یعنی جہاں مجبوری ہو وہاں ایسا کرنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1880
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (4275)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الأطعمة 25 (3301) ، ( تحفة الأشراف : 7821) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3301

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چلتے ہوئے کھاتے تھے اور کھڑے ہو کر پیتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1880]
اردو حاشہ:
نوٹ:

(سندمیں ابومسلم جذمی مقبول عند المتابعہ ہیں، ورنہ لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث رقم 1879 سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1880 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3301 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کھڑے ہو کر کھانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چلتے پھرتے کھاتے تھے، اور کھڑے کھڑے پیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3301]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صحیح مسلم میں حضرت انس، حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ سے نبی اکرم ﷺ کی احادیث مروی ہیں جن سے کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے بلکہ حضرت ابوسعید خدری نے تو زجر کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی ڈانٹا یا سختی سے منع کیا۔
اور حضرت ابو ہریرہ نے یہ فرمان نبوی روایت کیا ہے: جوشخص بھول جائے (اور کھڑے ہوکر پانی پی لے)
تو اسے چاہیے کہ قے کردے۔

(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے منع اور جواز کی احادیث ذکر کرتے ہوئے علماء کے مختلف اقوال اور دلائل ذکر کرکے اس چیز کو ترجیح دی ہے کہ کھڑے ہوکر پینا مکروہ تنزیہی ہے۔ دیکھیے: (فتح الباری: 10/ 103، 106)
واللہ اعلم۔

(3)
کھڑے ہو کر کھانا، کھڑے ہو کر پینے سے زیادہ مکروہ ہے۔

(4)
چلتے چلتے کھانا اتفاقی معاملہ ہے جس کے جواز میں شبہ نہیں لیکن آج کل دعوتوں میں کھڑے کھڑے کھانے کا جواز محل نظر ہے کیونکہ اس میں
ایک تو غیروں کی بھونڈی نقالی ہے۔

دوسرے یہ ڈھورڈنگروں والا طریقہ ہے جو انسانوں کے شایان شان نہیں۔

تیسرے یہ انسانی وقار کے بھی منافی ہے۔

چوتھے، اس طریقے میں جوافراتفری مچتی ہے اس سے کھانے کا بہت ضیاع ہوتا ہے اس لیے دعوتوں کا یہ طریقہ ناجائز اور متعدد قباحتوں کا حامل ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3301 سے ماخوذ ہے۔