سنن ترمذي
كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْحُبُوبِ الَّتِي يُتَّخَذُ مِنْهَا الْخَمْرُ باب: ان غلوں اور پھلوں کا بیان جن سے شراب بنائی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 1872
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ،ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گیہوں ، جو ، کھجور ، کشمش ، اور شہد سے شراب بنائی جاتی ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ سے بھی حدیث مروی ہے ۔
فائدہ ۱؎ : یعنی اگر ان چیزوں میں نشہ پیدا ہو جائے تو وہ شراب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ان غلوں اور پھلوں کا بیان جن سے شراب بنائی جاتی ہے۔`
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " گیہوں، جو، کھجور، کشمش، اور شہد سے شراب بنائی جاتی ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1872]
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " گیہوں، جو، کھجور، کشمش، اور شہد سے شراب بنائی جاتی ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1872]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: یعنی اگران چیزوں میں نشہ پیداہوجائے تو وہ شراب ہے۔
وضاحت: 1 ؎: یعنی اگران چیزوں میں نشہ پیداہوجائے تو وہ شراب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1872 سے ماخوذ ہے۔