سنن ترمذي
كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ أَنْ يُنْبَذَ فِي الظُّرُوفِ باب: مذکورہ بالا برتنوں میں نبیذ بنانے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1870
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الظُّرُوفِ " فَشَكَتْ إِلَيْهِ الْأَنْصَارُ ، فَقَالُوا : لَيْسَ لَنَا وِعَاءٌ ، قَالَ : فَلَا إِذَنْ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان ) برتنوں ( کے استعمال ) سے منع فرمایا تو انصار نے آپ سے شکایت کی ، اور کہا : ہمارے پاس دوسرے برتن نہیں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب میں منع نہیں کرتا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن مسعود ، ابو سعید خدری ، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5659 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ہر برتن کے استعمال کی اجازت کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کچھ برتنوں سے روکا تو انصار کو شکایت ہوئی، چنانچہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس کوئی اور برتن نہیں ہے تو آپ نے فرمایا: ” تب تو نہیں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5659]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کچھ برتنوں سے روکا تو انصار کو شکایت ہوئی، چنانچہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس کوئی اور برتن نہیں ہے تو آپ نے فرمایا: ” تب تو نہیں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5659]
اردو حاشہ: گویا یہ پابندی کچھ عرصے تک رہی۔ لوگوں کی تکلیف کو محسوس فرماتے ہوئے بعد میں آپ نے پابندی اٹھائی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5659 سے ماخوذ ہے۔