مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1870
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الظُّرُوفِ " فَشَكَتْ إِلَيْهِ الْأَنْصَارُ ، فَقَالُوا : لَيْسَ لَنَا وِعَاءٌ ، قَالَ : فَلَا إِذَنْ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان ) برتنوں ( کے استعمال ) سے منع فرمایا تو انصار نے آپ سے شکایت کی ، اور کہا : ہمارے پاس دوسرے برتن نہیں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب میں منع نہیں کرتا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن مسعود ، ابو سعید خدری ، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1870
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: **
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3699 | سنن نسائي: 5659

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5659 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ہر برتن کے استعمال کی اجازت کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کچھ برتنوں سے روکا تو انصار کو شکایت ہوئی، چنانچہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس کوئی اور برتن نہیں ہے تو آپ نے فرمایا: تب تو نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5659]
اردو حاشہ: گویا یہ پابندی کچھ عرصے تک رہی۔ لوگوں کی تکلیف کو محسوس فرماتے ہوئے بعد میں آپ نے پابندی اٹھائی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5659 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔