سنن ترمذي
كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ باب: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ ، وَعَلِيٍّ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَنَسٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَالْأَشَجِّ الْعُصَرِيِّ ، وَدَيْلَمَ ، وَمَيْمُونَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَمُعَاوِيَةَ ، وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، وَقُرَّةَ الْمُزَنِيِّ ، وعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ ، وَبُرَيْدَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَائِشَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَكِلَاهُمَا صَحِيحٌ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- ابوسلمہ سے ابوہریرہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، دونوں حدیثیں صحیح ہیں ، کئی لوگوں نے اسے اسی طرح «محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اور «عن أبي سلمة عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، ۳- اس باب میں عمر ، علی ، ابن مسعود ، انس ، ابو سعید خدری ، ابوموسیٰ اشج عصری ، دیلم ، میمونہ ، ابن عباس ، قیس بن سعد ، نعمان بن بشیر ، معاویہ ، وائل بن حجر ، قرہ مزنی ، عبداللہ بن مغفل ، ام سلمہ ، بریدہ ، ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کی ہر مقدار ناجائز ہے، قلیل و کثیر کا اعتبار نہیں ہے، اس طرح ہر نشہ آور کی ہر مقدار حرام ہے، قلیل و کثیر کا اعتبار نہیں ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اس حال میں مر گیا کہ وہ اس کا عادی تھا، تو وہ آخرت میں اسے نہیں پیئے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1861]
وضاحت:
1؎:
دنیا میں شراب پینے والا اگر توبہ کئے بغیر مرگیا تو وہ آخرت کی شراب سے محروم رہے گا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا (یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3679]
فائدہ: اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ شخص اس شراب سے محروم رہے گا۔
جو جنت میں داخل ہونے والوں کو میسر ہوگی، دوسرے لفظوں میں وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3387]
فوائد و مسائل:
(1)
نشہ آور چیز خواہ پی جاتی ہو یا کھائی جاتی ہو سونگھی جاتی ہو یا انجکشن کے ذریعے سے جسم میں داخل کی جاتی ہوحرام ہے۔
(2)
منشیات کا استعمال کم ہو یا زیاہ ہر صورت میں حرام ہے۔
(2)
اگر کوئی مشروب زیادہ مقدار میں پینے سے نشہ ہوتا ہے۔
تو اس کا کم مقدار میں استعمال بھی حرام ہے۔
خواہ اس سے نشہ نہ آئے۔
(4)
تمباکو کا اثر بھی نشے کا سا ہے۔
اور اس کے بہت سے نقصانات ہیں۔
لہٰذا حقہ، سگریٹ، سگار، کھانے والا تمباکو اور اس طرح کی تمام اقسام اور صورتیں شرعا ممنوع ہیں۔
(5)
ان اشیاء کی خریدوفروخت اور پیداوارسب کا یہی حکم ہے۔
یعنی ممنوع ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر نشہ لانے والی چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3390]
فوائد و مسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ بعض علماء کا یہ قول درست نہیں، کہ انگور سے بنی ہوئی شراب تو کم ہو یا زیادہ حرام ہے اور اس کے پینے والے کو سزا دی جائےگی۔
لیکن دوسری چیزوں سے بنا ہوا نشہ آور مشروب مطلقاً حرام نہیں بلکہ تھوڑی مقدار جس کے پینے سے نشہ نہ ہو حلال ہے۔
یہ حدیث ایسے اقوال کو صراحتاً غلط ثابت کرتی ہے۔
اس کی تائید حدیث 3392 سے بھی ہوتی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز خمر (شراب) ہے۔“ حسین کہتے ہیں: امام احمد نے کہا: یہ صحیح حدیث ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5586]
ابوجویریہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا ان سے مسئلہ پوچھا گیا اور کہا گیا: ہمیں بادہ ۱؎ کے بارے میں فتویٰ دیجئیے۔ تو انہوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے زمانے میں بادہ نہیں تھا، (یا آپ نے اس کا حکم پہلے ہی فرما دیا ہے کہ) جو بھی چیز نشہ لانے والی ہو وہ حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5609]
(2) یہ حدیث مبارکہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی عظیم فقاہت کی دلیل ہے کہ انھوں نے مسائل کو انتہائی مختصر مگر نہایت بلیغ وجامع جواب دیا۔ بعد ازاں انھوں نے اس کے سامنے یہ اصول بیان فرما دیا کہ ما أسكرَ فهو حَرامٌ یعنی جو چیز نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔ یہ بعینہ اسی طرح کی بات ہے جیسی مختصر بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی تھی۔
(3) ”تشریف لےگئے“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تو نہیں تھی، نہ آپ اسے جانتے تھے مگر آپ نے ضابطہ بیان فرما دیا ہے کہ ہر نشہ آور چیزرحرام ہے۔
(4) یہ تقریبا پینتیس روایات ہیں جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اور مصنف کا مقصود بھی یہی ہے کہ شراب کی حرمت کی وجہ نشہ ہے، لہٰذا جس چیز میں نشہ پایا جائے گا وہ شراب کی طرح قطعا حرام ہے۔ قلیل بھی اور کثیر بھی۔ اور یہ بات عرفا، عقلا اور شرعا بالکل واضح ہے۔ اور یہی مسلک ہے جمہور اہل علم اور صحابہ وتابعین کا۔ مگر احناف کو یہ سیدھی سادی بات سمجھ میں نہیں آتی اور وہ بھول بھلیوں میں پڑگئے، حالانکہ احناف قیاس کے سب سے بڑے داعی ہیں اور وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ شراب کی حرمت کی قطعی وجہ نشہ ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ کسی اور چیز میں نشہ پایا جائے تو وہ شراب کی طرح حرام نہ ہو؟ شراب تو قلیل بھی حرام اور کثیر بھی لیکن دوسری نشہ آور اشیاء نشے سے کم کم حلال؟ کیا اس کی کوئی عقلی یا شرعی تو جیہ کی جا سکتی ہے؟ ہر گز نہیں، خصوصا قیاس کے داعی تو ایسا نہیں کر سکتے جب کہ بے شمار احادیث بھی صراحتا اس تفریق کے خلاف ہیں۔ یہی بات سمجھانے کے لیے مصنف ؒ نے آئندہ باب بھی قائم فرمایا جس میں یہ مسئلہ صراحتا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالی ہدایت دے۔ آمین.