حدیث نمبر: 1858
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فَإِنْ نَسِيَ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم لوگوں میں سے کوئی کھانا کھائے تو «بسم اللہ» پڑھ لے ، اگر شروع میں بھول جائے تو یہ کہے «بسم الله في أوله وآخره» ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1858
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: **
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأطعمة 16 (3767) ، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 103 (281) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 7 (3264) ، والمؤلف في الشمائل25 ( تحفة الأشراف : 17988) ، و مسند احمد (6/143) ، سنن الدارمی/الأطعمة 1 (2063) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3767 | سنن ابن ماجه: 3264

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3264 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کھانے کے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) آیا، اور اس نے اسے دو لقموں میں کھا لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو، اگر یہ شخص «بسم الله» کہہ لیتا، تو یہی کھانا تم سب کے لیے کافی ہوتا، لہٰذا تم میں سے جب کوئی کھانا کھائے تو چاہیئے کہ وہ («بسم الله» ) کہے، اگر وہ شروع میں («بسم الله» ) کہنا بھول جائے تو یوں کہے: «بسم الله في أوله وآخره» ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3264]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بسم اللہ پڑھنے سے کھانے میں برکت ہوتی ہے اور تھوڑا کھانا زیادہ لوگوں کو کافی ہو جاتا ہے۔

(2)
اگر چند افراد مل کر ایک برتن میں کھانا کھا رہے ہوں تو سب کو بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔
اگر ایک آدمی بھی بغیر بسم اللہ کے کھانے لگے تو برکت ختم ہو جاتی ہے۔

(3)
کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنی چاہیے یاد نہ رہے تو یاد آنے پر (بسم الله اوله وآخره)
يا (بسم الله فى أوله وآخره)
پڑھ لے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3264 سے ماخوذ ہے۔