حدیث نمبر: 1854
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَاضْرِبُوا الْهَامَ تُورَثُوا الْجِنَانَ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَأَنَسٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشَ ، وَشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلام کو عام کرو اور اسے پھیلاؤ ، کھانا کھلاؤ اور کافروں کا سر مارو ( یعنی ان سے جہاد کرو ) جنت کے وارث بن جاؤ گے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطہ سے ابن زیاد کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ، ابن عمر ، انس ، عبداللہ بن سلام ، عبدالرحمٰن بن عائش اور شریح بن ہانی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، شریح بن ہانی نے اپنے والد سے روایت کی ہے ۔

وضاحت:
۱؎: حدیث میں مذکور یہ سارے کے سارے کام ایسے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانے والا اس جنت کا وارث ہو جائے گا جس کا وعدہ رب العالمین نے اپنے متقی بندوں سے کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1854
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الإرواء (3 / 238) // 777 //، الضعيفة (1324) // ضعيف الجامع الصغير (995) // , شیخ زبیر علی زئی: (1854) إسناده ضعيف, عثمان الجمحي ليس بالقوي (تق: 4495) ولبعض الحديث شواھد كثيرة جدًا
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 14402) (ضعیف) (سند میں عثمان بن عبد الرحمن جمعی ضعیف راوی ہیں، لیکن ’’ افشوا السلام وأطعموا الطعام ‘‘ کا ٹکڑا دیگر صحابہ سے صحیح ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کھانا کھلانے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام کو عام کرو اور اسے پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور کافروں کا سر مارو (یعنی ان سے جہاد کرو) جنت کے وارث بن جاؤ گے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1854]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حدیث میں مذکور یہ سارے کے سارے کام ایسے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانے والا اس جنت کا وارث ہوجائے گا جس کا وعدہ رب العالمین نے اپنے متقی بندوں سے کیا ہے۔
نوٹ:

(سند میں عثمان بن عبد الرحمن جمعی ضعیف راوی ہیں، لیکن (أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ) کا ٹکڑا دیگر صحابہ سے صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1854 سے ماخوذ ہے۔