سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ باب: مغرب سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ " . وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ، فَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمُ الصَّلَاةَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ ، وقَالَ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق : إِنْ صَلَّاهُمَا فَحَسَنٌ ، وَهَذَا عِنْدَهُمَا عَلَى الِاسْتِحْبَابِ .´عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو نفلی نماز پڑھنا چاہے اس کے لیے ہر دو اذان ۱؎ کے درمیان نماز ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ، ۳- صحابہ کرام کے درمیان مغرب سے پہلے کی نماز کے سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے ، ان میں سے بعض کے نزدیک مغرب سے پہلے نماز نہیں ، اور صحابہ میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ وہ لوگ مغرب سے پہلے اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے ، ۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی انہیں پڑھے تو بہتر ہے ، اور یہ ان دونوں کے نزدیک مستحب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: " جو نفلی نماز پڑھنا چاہے اس کے لیے ہر دو اذان ۱؎ کے درمیان نماز ہے۔" [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 185]
1؎:
ہر دو اذان سے مراد اذان اور اقامت ہے، یہ حدیث مغرب کی اذان کے بعد دو رکعت پڑھنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے، اور یہ کہنا کہ یہ منسوخ ہے قابل التفات نہیں کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں، اسی طرح یہ کہنا کہ اس سے مغرب میں تاخیر ہو جائے گی صحیح نہیں کیونکہ یہ نماز بہت ہلکی پڑھی جاتی ہے، مشکل سے دو تین منٹ لگتے ہیں جس سے مغرب کے اوّل وقت پر پڑھنے میں کوئی فرق نہیں آتا اس سے نماز مؤخرنہیں ہوتی۔
(صحیح بخاری کی ایک روایت میں تو امر کا صیغہ ہے ’’مغرب سے پہلے نماز پڑھو‘‘)
کم ازکم اتنا ضروری کہ کوئی شخص دورکعت سنت پڑھ سکے۔
مگر مغرب میں وقت کم ہونے کی وجہ سے فوراً جماعت شروع ہوجاتی ہے۔
ہاں اگر کوئی شخص مغرب میں بھی نماز فرض سے پہلے دورکعت سنت پڑھنا چاہے تواس کے لیے اجازت ہے۔
(1)
حدیث کے الفاظ کا ترجمہ بایں طور ہے کہ ہر دو اذان کے درمیان نماز ہے۔
اسے اپنے ظاہر پر محمول کرنا صحیح نہیں، کیونکہ دو اذان کے درمیان تو نماز فرض ہے، جبکہ اس حدیث میں دو اذان کے درمیان نماز پڑھنے کو نماز کے صوابدیدی اختیار پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
دراصل اس حدیث میں تغلیب کے طور پر اقامت کو اذان سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ اذان نماز کے لیے دخول وقت کی اطلاع ہوتی ہے اور اقامت کے ذریعے سے عملی طور پر نماز ادا کرنے کے وقت کی اطلاع دی جاتی ہے، جبکہ اقامت کے ذریعے سے حاضرین کو متنبہ کیا جاتا ہے۔
(فتح الباري: 141/2) (2)
حافظ ابن حجر ؒ نے علامہ ابن جوزی ؒ کے حوالے سے لکھا ہے: یہ حدیث ایک وہم کو دور کرنے کا فائدہ دیتی ہے کہ جس نماز کےلیے اذان دی جاتی ہے۔
شاید اس کے علاوہ اور کوئی نماز جائز نہ ہو جبکہ حدیث مذکور نے اس وہم کو دور کردیا کہ اذان کے بعد نوافل وغیرہ پڑھے جاسکتے ہیں، البتہ اقامت کے متعلق یہی اصول ہے کہ اس کے بعد صرف وہی نماز ہوگی جس کےلیے اقامت کہی گئی ہے۔
جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جب نماز کےلیے تکبیر کہی جائے تو اس وقت وہی نماز جائز ہوگی جس کے لیے تکبیر کہی گئی ہے۔
(صحیح مسلم،صلاة المسافرین، حدیث: 1644(710)
➊ اذان اور نماز کے درمیان وقفے کے متعلق مشہور حدیث وہ ہے جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: «اجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُعُ الآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْيه وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ» [ترمذي: 195] "(اے بلال!) اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا فاصلہ رکھو کہ کھانے والا اپنے کھانے سے، پینے والا اپنے پینے سے اور قضائے حاجت والا جو اپنی حاجت کے لیے گیا ہو اپنی حاجت سے فارغ ہو جائے۔" مگر یہ حدیث بہت ہی ضعیف ہے، کیونکہ اس کے راویوں میں سے بقول حافظ ابن حجر رحمہ اللہ عبد المنعم متروک اور یحییٰ بن مسلم مجہول ہے۔ اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث اور اس کی ہم معنی احادیث کے ضعف کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ان سب سے صرفِ نظر کر کے یہ حدیث ذکر فرمائی ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان کم از کم اتنا فاصلہ ضرور ہونا چاہیے کہ اگر کوئی اس میں نفل نماز پڑھنا چاہے تو دو رکعت ضرور پڑھ لے۔ یاد رہے کہ حدیث میں «أَذانَيْنِ» سے مراد اذان اور اقامت ہے، کیونکہ اقامت کے الفاظ بھی وہی ہیں جو اذان کے ہیں اور «صلاة» سے مراد نقل نماز ہے، کیونکہ "اذانین" سے مراد اگر دو اذانیں ہی ہوں تو ان کے درمیان تو فرض نماز ہے جو ہر ایک کو پڑھنا لازم ہے، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لِمَنْ شَاءَ» "جو چاہے۔" یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «أَذَانَيْنِ» سے مراد دو اذانیں ہی ہوں، مگر «صَلَاةٌ» سے مراد نفل نماز ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہر دو اذانوں کے درمیان فرض نماز کے علاوہ نفل نماز ہے، اس لیے ممنوع اوقات کے علاوہ جو نفل نماز پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے۔
➋ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ حدیث مغرب کی اذان اور اقامت کے لیے نہیں، ان کے کہنے کے مطابق مغرب کی اذان کے بعد نفل پڑھنا جائز نہیں، یہ حدیث صرف دوسری نمازوں کے لیے ہے، کیونکہ مغرب کا وقت بہت کم ہے۔ مگر یہ بات درست نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ کثرت سے مغرب کی اذان کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، جیسا کہ اس کے بعد والی حدیث میں ہے۔ رہی وقت تنگ ہونے کی بات تو نووی نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ "یہ بات کہ ان دو رکعتوں سے مغرب کے اول وقت سے تاخیر ہوتی ہے، یہ سنت کو پرے پھینک دینے والی فاسد بات ہے۔" خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات مغرب کی نماز میں سورۃ اعراف پڑھا کرتے تھے جو سوا پارے کی سورت ہے، تو کیا مغرب میں اذان کے بعد دو رکعت کی گنجائش بھی نہیں؟ اگر گنجائش ہی نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص مغرب کا نام لے کر کیوں فرمایا: «صَلُّوا قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: لِمَنْ شَاءَ، كَرَاهِيَةَ أَن يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةٌ» [بخاري: 1183] "مغرب کی نماز سے پہلے نماز پڑھو۔" تیسری دفعہ فرمایا: "جو چاہئے" اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ لوگ اسے ضروری طریقہ نہ سمجھ لیں۔"
(1)
امام بخاری ؒ کا ایک اصول ہے کہ بعض اوقات وہ عنوان کے ذریعے سے کسی روایت کی تردید یا تائید کرتے ہیں۔
تائید کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ الفاظ حدیث اگرچہ امام بخاری ؒ کی شرط کے مطابق نہیں ہوتے، لیکن مضمون حدیث صحیح ہوتا ہے۔
اس مضمون کو اپنی کسی روایت سے ثابت کرتے ہیں۔
(2)
عنوان مذکورہ کا مطلب بھی ایک حدیث کے مضمون کو ثابت کرنا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اذان اور اقامت کے درمیان اتنا فاصلہ ہونا چاہیے کہ کھانے پینے والا اپنی ضروریات اور بول وبراز والا اپنی حوائج ضروریہ سے فارغ ہوسکے۔
‘‘ (جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 195)
یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے، تاہم امام بخاری ؒ کا مقصوداس کے مضمون کو ثابت کرنا ہے، چنانچہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اذان اور تکبیر کے درمیان کم از کم اتنا فاصلہ تو ہونا چاہیے کہ اگر کوئی دورکعت پڑھنا چاہے تو پڑھ سکے حتی کہ نماز مغرب جس کا وقت محدود ہوتاہے، وہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
اگرچہ ایک حدیث میں مغرب کا استثنا آیا ہے، لیکن حفاظ حدیث کی مخالفت کی وجہ سے یہ اضافہ شاذ ہے۔
اس کے علاوہ راوئ حدیث حضرت بریدہ ؓ خود نماز مغرب سے پہلے دورکعت پڑھتے تھے۔
اگر مذکورہ اضافہ محفوظ ہوتا تو کم از کم حضرت بریدہ ان دو رکعات کو نہ پڑھتے، نیز اس روایت کے ایک راوی حیان بن عبداللہ پر بھی محدثین نے کچھ کلام کیا ہے۔
(فتح الباري: 142/2)
مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے متعلق ہم آئندہ بحث کریں گے۔
➊ اذان اور نماز کے درمیان وقفے کے متعلق مشہور حدیث وہ ہے جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: «اجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُعُ الآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْيه وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ» [ترمذي: 195] "(اے بلال!) اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا فاصلہ رکھو کہ کھانے والا اپنے کھانے سے، پینے والا اپنے پینے سے اور قضائے حاجت والا جو اپنی حاجت کے لیے گیا ہو اپنی حاجت سے فارغ ہو جائے۔" مگر یہ حدیث بہت ہی ضعیف ہے، کیونکہ اس کے راویوں میں سے بقول حافظ ابن حجر رحمہ اللہ عبد المنعم متروک اور یحییٰ بن مسلم مجہول ہے۔ اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث اور اس کی ہم معنی احادیث کے ضعف کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ان سب سے صرفِ نظر کر کے یہ حدیث ذکر فرمائی ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان کم از کم اتنا فاصلہ ضرور ہونا چاہیے کہ اگر کوئی اس میں نفل نماز پڑھنا چاہے تو دو رکعت ضرور پڑھ لے۔ یاد رہے کہ حدیث میں «أَذانَيْنِ» سے مراد اذان اور اقامت ہے، کیونکہ اقامت کے الفاظ بھی وہی ہیں جو اذان کے ہیں اور «صلاة» سے مراد نقل نماز ہے، کیونکہ "اذانین" سے مراد اگر دو اذانیں ہی ہوں تو ان کے درمیان تو فرض نماز ہے جو ہر ایک کو پڑھنا لازم ہے، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لِمَنْ شَاءَ» "جو چاہے۔" یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «أَذَانَيْنِ» سے مراد دو اذانیں ہی ہوں، مگر «صَلَاةٌ» سے مراد نفل نماز ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہر دو اذانوں کے درمیان فرض نماز کے علاوہ نفل نماز ہے، اس لیے ممنوع اوقات کے علاوہ جو نفل نماز پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے۔
➋ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ حدیث مغرب کی اذان اور اقامت کے لیے نہیں، ان کے کہنے کے مطابق مغرب کی اذان کے بعد نفل پڑھنا جائز نہیں، یہ حدیث صرف دوسری نمازوں کے لیے ہے، کیونکہ مغرب کا وقت بہت کم ہے۔ مگر یہ بات درست نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ کثرت سے مغرب کی اذان کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، جیسا کہ اس کے بعد والی حدیث میں ہے۔ رہی وقت تنگ ہونے کی بات تو نووی نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ "یہ بات کہ ان دو رکعتوں سے مغرب کے اول وقت سے تاخیر ہوتی ہے، یہ سنت کو پرے پھینک دینے والی فاسد بات ہے۔" خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات مغرب کی نماز میں سورۃ اعراف پڑھا کرتے تھے جو سوا پارے کی سورت ہے، تو کیا مغرب میں اذان کے بعد دو رکعت کی گنجائش بھی نہیں؟ اگر گنجائش ہی نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص مغرب کا نام لے کر کیوں فرمایا: «صَلُّوا قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: لِمَنْ شَاءَ، كَرَاهِيَةَ أَن يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةٌ» [بخاري: 1183] "مغرب کی نماز سے پہلے نماز پڑھو۔" تیسری دفعہ فرمایا: "جو چاہئے" اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ لوگ اسے ضروری طریقہ نہ سمجھ لیں۔"
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، اس شخص کے لیے جو چاہے۔" [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1283]
’’دو اذانوں" سے مراد معروف اذان اور اقامت ہے اور ان دونوں کے مابین جن نوافل کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پابندی و تاکید کی اور ترغیب دی ہے، انہیں سنن راتبہ (مؤکدہ) کہتے ہیں اور جن کی پابندی نہیں کی انہیں غیر مؤکدہ کہتے ہیں۔
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہر دو اذان ۱؎ کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، جو چاہے اس کے لیے۔" [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 682]
➋ مغرب سے قبل دو رکعتوں کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ترغیبی حکم کے ساتھ ساتھ آپ کی تقریر بھی اس کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے، کبار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عہد نبوت میں اس پر عمل پیرا تھے، نیز عہد نبوت کے بعد تابعین عظام کے ہاں بھی یہ عمل معمول بہ تھا اور تاحال حاملین کتاب و سنت کے ہاں بتوفیق اللہ بدستور جاری ہے جیسا کہ اس کی تفصیل کتاب المواقیت کے ابتدائیے میں بعنوان "نماز مغرب سے قبل، اذان اور اقامت کے درمیان، دو رکعت نماز کا استحباب" میں گزر چکی ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
➌ جہاں مؤکدہ سنتیں ہیں وہاں تو وقفہ ہے ہی، باقی نمازوں میں بھی مستحب ہے۔ احناف مغرب کی نماز میں وقفے کے قائل نہیں کہ اس سے تاخیر ہو جائے گی، حالانکہ چند منٹ کے وقفے سے کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑے گا جب کہ احناف مغرب کی اذان بسا اوقات پانچ پانچ منٹ تاخیر سے کہتے ہیں، بالخصوص رمضان المبارک میں افطاری کے وقت بعض (بریلوی) حنفی مساجد میں صرف افطاری کے اعلان پر اکتفا کیا جاتا ہے، پھر پانچ سات منٹ بعد، حسب ضرورت کھا پی کر، اذان دی جاتی ہے جو کہ قطعاً سنت کے خلاف عمل ہے، اگر اس احتیاط سے نماز میں تاخیر نہیں ہوتی تو ہلکی سی مسنون دو رکعتوں سے کیسے تاخیر ہو گی۔ سنت پر عمل تو برکت و ثواب کا موجب ہے۔
➍ دو اذانوں سے مراد حقیقی اذانیں نہیں کیونکہ ان کے درمیان تو فرض نمازِ ہوتی ہے اور یہاں «لمن شاء» کے الفاظ ہیں کہ جو پڑھنا چاہے، گویا یہ فرض نماز نہیں، لہٰذا دو اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہیں۔
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے، آپ نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور تیسری مرتبہ میں کہا: " اس کے لیے جو چاہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1162]
فوائد و مسائل:
(1)
بعض اوقات اقامت کو بھی اذان کہہ دیا جاتا ہے۔
جمعے کی پہلی اذان کو اسی مفہوم میں تیسری اذان کہا گیا ہے۔
دیکھئے: (حدیث: 1135)
اس حدیث میں بھی اقامت کو اذان سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ ہراذان کے بعد سنتیں پڑھی جایئں گی۔
جیسے ظہر، عصر، عشاء اور فجرسے پہلے اسی طرح مغرب کی اذان کے بعد مغرب کی اذان سے پہلے بھی سنتیں ہیں۔
اور وہ کتنی ہیں؟ صرف دوسنتیں۔
کیونکہ دوسری روایت میں اس کی صراحت موجود ہے۔
تاہم یہ غیر مؤکدہ ہیں۔
کیونکہ ان کو نبی کریمﷺ نے پڑھنے والے کی چاہت پر چھوڑ دیا ہے۔
(2)
یہ نماز اذان ختم ہونے کے بعد پڑھی جاتی ہے۔
جیسے کہ اذان اور اقامت کے درمیان کے لفظ سے ظاہر ہے۔
(3) (لمن شاء)
سے ظاہر ہے کہ یہ سنت غیر مؤکدہ ہے۔