سنن ترمذي
كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَهُ باب: کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجُرْجَانِيُّ، قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ الْمَعْنَى واحد ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ يَعْنِي الرُّمَّانِيَّ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ : " قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهُ " ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ للنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : لَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ، وَأَبُو هَاشِمٍ الرُّمَّانِيُّ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ دِينَارٍ .´سلمان فارسی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ ” کھانے کی برکت کھانے کے بعد وضو کرنے میں ہے “ ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا اور جو کچھ تورات میں پڑھا تھا اسے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور اس کے بعد وضو کرنے میں ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس حدیث کو ہم صرف قیس بن ربیع کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- اور قیس بن ربیع حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ، ۳- اس باب میں انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سلمان فارسی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ ” کھانے کی برکت کھانے کے بعد وضو کرنے میں ہے “، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا اور جو کچھ تورات میں پڑھا تھا اسے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور اس کے بعد وضو کرنے میں ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1846]
نوٹ:
(سند میں قیس بن ربیع ضعیف راوی ہیں)