سنن ترمذي
كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الْبِطِّيخِ بِالرُّطَبِ باب: تازہ کھجور کے ساتھ تربوز کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1843
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ وَقَدْ رَوَى يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ هَذَا الْحَدِيثَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تازہ کھجور کے ساتھ تربوز کھاتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- بعض لوگوں نے اسے «عن هشام بن عروة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے ، اس میں عائشہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے ، یزید بن رومان نے اس حدیث کو عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے ، ۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3836 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دو قسم کے کھانے ایک ساتھ کھانے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تربوز یا خربوزہ پکی ہوئی تازہ کھجور کے ساتھ کھاتے تھے اور فرماتے تھے: ” ہم اس (کھجور) کی گرمی کو اس (تربوز) کی ٹھنڈک سے اور اس (تربوز) کی ٹھنڈک کو اس (کھجور) کی گرمی سے توڑتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3836]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تربوز یا خربوزہ پکی ہوئی تازہ کھجور کے ساتھ کھاتے تھے اور فرماتے تھے: ” ہم اس (کھجور) کی گرمی کو اس (تربوز) کی ٹھنڈک سے اور اس (تربوز) کی ٹھنڈک کو اس (کھجور) کی گرمی سے توڑتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3836]
فوائد ومسائل:
فائدہ: اس حدیث سے چیزوں کی طبائع اور خواص کے نظرئے کی تایئد ہوتی ہے۔
جو کہ طب قدیم میں معروف ہے۔
در حقیقت خواص اشیاء کے حوالے سے ٹھنڈی اور گرمی سے مراد وہ ٹھنڈک اور گرمی نہیں۔
جو تھرما میٹر سے ناپی جا سکتی ہے۔
بلکہ ان اشیاء کے استعمال سے انسان کو جسم میں جو کیفیت محسوس ہوتی ہے۔
اس کو ٹھنڈک یا گرمی سے تشبیہ د ے کر اس کے اظہارکرنے کا طریقہ زمانہ قدیم سے اطباء اورعام انسانوں میں ر ائج ہے۔
حتیٰ کہ انگریز ڈاکٹر بھی اس کھانے کو جس میں مرچیں اور مسالے زیادہ شامل کر دییئے جایئں۔
ویری ہاٹ کہتے ہیں۔
خواہ وہ کھانا حرارت کے حوالے سے ٹھنڈا ہی کیوں نہ ہو۔
فائدہ: اس حدیث سے چیزوں کی طبائع اور خواص کے نظرئے کی تایئد ہوتی ہے۔
جو کہ طب قدیم میں معروف ہے۔
در حقیقت خواص اشیاء کے حوالے سے ٹھنڈی اور گرمی سے مراد وہ ٹھنڈک اور گرمی نہیں۔
جو تھرما میٹر سے ناپی جا سکتی ہے۔
بلکہ ان اشیاء کے استعمال سے انسان کو جسم میں جو کیفیت محسوس ہوتی ہے۔
اس کو ٹھنڈک یا گرمی سے تشبیہ د ے کر اس کے اظہارکرنے کا طریقہ زمانہ قدیم سے اطباء اورعام انسانوں میں ر ائج ہے۔
حتیٰ کہ انگریز ڈاکٹر بھی اس کھانے کو جس میں مرچیں اور مسالے زیادہ شامل کر دییئے جایئں۔
ویری ہاٹ کہتے ہیں۔
خواہ وہ کھانا حرارت کے حوالے سے ٹھنڈا ہی کیوں نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3836 سے ماخوذ ہے۔