حدیث نمبر: 1837
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب : عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو حَيَّانَ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ ، وَأَبُو زَرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ اسْمُهُ هَرِمٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور آپ کو دست پیش کی گئی ، آپ کو دست بہت پسند تھی ، چنانچہ آپ نے اسے دانت سے نوچ کر کھایا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن مسعود ، عائشہ ، عبداللہ بن جعفر اور ابوعبیدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- ابوحیان کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان ہے اور ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کا نام ہرم ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1837
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3307)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 3 (3340) ، وتفسیر الإسراء 5 (4712) ، صحیح مسلم/الإیمان 84 (194) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 28 (3307) ، ویأتي عند المؤلف في صفة القیامة 10 (2434) ، ( تحفة الأشراف : 14927) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3307

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3307 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جانور کا کس جگہ کا گوشت سب سے عمدہ اور لذیذ ہوتا ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دن گوشت آیا، تو آپ کو دست کا گوشت پیش کیا گیا، اس لیے کہ وہ آپ کو بہت پسند تھا تو آپ نے اس میں سے دانت سے نوچ کر کھایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3307]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  ذراع (دستی)
سےمراد بکرے کی اگلی ٹانگوں کا گھٹنے سے پائے تک کا حصہ ہے۔
علامہ وحیدالزمان نے اس کی خوب اچھی تعبیر کی ہے یعنی گوڈی کا گوشت۔

(2)
گوشت کو چھری سے کاٹ کر کھانے کے بجائے دانتوں سے نوچ کر کھانا زیادہ مفید ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3307 سے ماخوذ ہے۔