سنن ترمذي
كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي إِكْثَارِ مَاءِ الْمَرَقَةِ باب: سالن میں پانی زیادہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1833
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَلْقَ أَخَاهُ بِوَجْهٍ طَلِيقٍ ، وَإِنِ اشْتَرَيْتَ لَحْمًا أَوْ طَبَخْتَ قِدْرًا فَأَكْثِرْ مَرَقَتَهُ وَاغْرِفْ لِجَارِكَ مِنْهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں میں سے کوئی شخص کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھے ، اگر کوئی نیک کام نہ مل سکے تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ۱؎ ، اور اگر تم گوشت خریدو یا ہانڈی پکاؤ تو شوربا ( سالن ) بڑھا لو اور اس میں سے چلو بھر اپنے پڑوسی کو دے دو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- شعبہ نے بھی اسے ابوعمران جونی کے واسطہ سے روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا اسے دلی سکون پہنچانا ہے، یہ بھی ایک نیک عمل ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سالن میں پانی زیادہ کرنے کا بیان۔`
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگوں میں سے کوئی شخص کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھے، اگر کوئی نیک کام نہ مل سکے تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ۱؎، اور اگر تم گوشت خریدو یا ہانڈی پکاؤ تو شوربا (سالن) بڑھا لو اور اس میں سے چلو بھر اپنے پڑوسی کو دے دو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1833]
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگوں میں سے کوئی شخص کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھے، اگر کوئی نیک کام نہ مل سکے تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ۱؎، اور اگر تم گوشت خریدو یا ہانڈی پکاؤ تو شوربا (سالن) بڑھا لو اور اس میں سے چلو بھر اپنے پڑوسی کو دے دو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1833]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اپنے مسلمان بھائی سے مسکرکر ملنا اسے دلی سکون پہنچاناہے، یہ بھی ایک نیک عمل ہے۔
وضاحت:
1؎:
اپنے مسلمان بھائی سے مسکرکر ملنا اسے دلی سکون پہنچاناہے، یہ بھی ایک نیک عمل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1833 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2626 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےمجھے فرمایا:"کسی نیکی کو کم تر (حقیر)خیال نہ کرو،اگرچہ اپنے بھائی کو کشادہ چہرے سے ملنا ہی ہو۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6690]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: چونکہ نیکی، نیکی کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے، اس لیے شیطان، انسان کو نیکی سے محروم رکھنے کے لیے، اس کے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے تو نے بڑے بڑے گناہ کیے ہیں، کوئی بڑی نیکی نہیں کی ہے، تمہیں اس چھوٹی سی نیکی کرنے سے کیا حاصل ہو گا، حالانکہ بسا اوقات، اخلاص اور نیک نیتی سے کی گئی چھوٹی سی نیکی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے، بڑی نیکیوں کا راستہ ہموار کر دیتی ہے، گناہوں کی بخشش کا باعث بن جاتی ہے اور بدی کا راستہ روک لیتی ہے، جیسا کہ ایک عورت کی کایا، محض کتے کو پانی پلانے سے پلٹ گئی تھی، دوسرے کے لیے ایک کانٹے دار شاخ کے راستہ سے ہٹانے نے جنت کی راہ ہموار کی تھی، اس لیے کسی نیکی کو کم تر سمجھ کر اس سے باز نہیں رہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2626 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1261 کی شرح از الشیخ عبدالسلام بھٹوی ✍️
معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو
«وعن ابي ذر رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: لا تحقرن من المعروف ولو ان تلقى اخاك بوجه طلق .»
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی بھلے کام کو حقیر اور معمولی نہ سمجھو۔ خواہ اپنے بھائی سے کشادہ چہرے سے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔“ (اس کو مسلم نے روایت کیا ہے)۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1261]
«وعن ابي ذر رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: لا تحقرن من المعروف ولو ان تلقى اخاك بوجه طلق .»
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی بھلے کام کو حقیر اور معمولی نہ سمجھو۔ خواہ اپنے بھائی سے کشادہ چہرے سے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔“ (اس کو مسلم نے روایت کیا ہے)۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1261]
تخریج:
[مسلم البر والصلة 6690]، [تحفة الاشراف 175/5]
فوائد:
نیکی کا کوئی بھی کام معمولی نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ» [2-البقرة:215]
”اور تم جو بھلائی بھی کرو اللہ تعالیٰ اسے جاننے والا ہے۔“
اور فرمایا: «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلة:7]
”پس جو شخص ایک ذرے کے برابر بھلائی کرے وہ اسے دیکھ لے گا۔“
[مسلم البر والصلة 6690]، [تحفة الاشراف 175/5]
فوائد:
نیکی کا کوئی بھی کام معمولی نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ» [2-البقرة:215]
”اور تم جو بھلائی بھی کرو اللہ تعالیٰ اسے جاننے والا ہے۔“
اور فرمایا: «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلة:7]
”پس جو شخص ایک ذرے کے برابر بھلائی کرے وہ اسے دیکھ لے گا۔“
درج بالا اقتباس شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 92 سے ماخوذ ہے۔