سنن ترمذي
كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي إِكْثَارِ مَاءِ الْمَرَقَةِ باب: سالن میں پانی زیادہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ لَحْمًا فَلْيُكْثِرْ مَرَقَتَهُ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ لَحْمًا أَصَابَ مَرَقَةً وَهُوَ أَحَدُ اللَّحْمَيْنِ " ، وَفِي الْبَاب : عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ هُوَ الْمُعَبِّرُ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ .´عبداللہ مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو اس میں ( پکاتے وقت ) شوربا ( سالن ) زیادہ کر لے ، اس لیے کہ اگر وہ گوشت نہ پا سکے تو اسے شوربا مل جائے ، وہ بھی دو گوشت میں سے ایک گوشت ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ابوذر سے بھی روایت ہے ، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے محمد بن فضاء کی روایت سے جانتے ہیں ، محمد بن فضاء «معبر» ( یعنی خواب کی تعبیر بیان کرنے والے ) ہیں ، ان کے بارے میں سلیمان بن حرب نے کلام کیا ہے ، ۳- یہ حدیث غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو اس میں (پکاتے وقت) شوربا (سالن) زیادہ کر لے، اس لیے کہ اگر وہ گوشت نہ پا سکے تو اسے شوربا مل جائے، وہ بھی دو گوشت میں سے ایک گوشت ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1832]
نوٹ:
(سند میں محمد بن فضاء ضعیف، اوران کے والد فضاء بن خالد بصری مجہول راوی ہیں)