سنن ترمذي
كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الشِّوَاءِ باب: بھنا ہوا گوشت کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1829
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، " أَنَّهَا قَرَّبَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَالْمُغِيرَةِ ، وَأَبِي رَافِعٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنی دست پیش کی ، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا ، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا ۔
امام ترمذی کہتے : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ۲- اس باب میں عبداللہ بن حارث ، مغیرہ اور ابورافع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔