سنن ترمذي
كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي طَعَامِ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ باب: ایک آدمی کا کھانا تین آدمی کے لیے کافی ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةَ ، وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةَ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . (حديث مرفوع) وَرَوَى جَابِرٌ، وَابْنُ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ " .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لیے اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لیے کافی ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو کفایت کر جائے گا ، دو آدمی کا کھانا چار آدمیوں کو کفایت کر جائے گا اور چار آدمی کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کفایت کر جائے گا “ ، ۳- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ . . .»
”. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے کافی ہے اور تین کا چار کے لیے کافی ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ: 5392]
باب اور حدیث میں مناسبت:
امام بخاری رحمہ اللہ نے باب میں ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے کافی ہے، کو واضح فرمایا ہے، جبکہ تحت الباب آپ نے جس حدیث کو پیش فرمایا ہے اس کا تعلق دو کا کھانا تین آدمیوں کو کفایت کرتا ہے پر دلالت کرتا ہے۔ لہٰذا باب اور حدیث میں مناسبت مشکل ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس اشکال کو حل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: «واستشكل الجمع بين الترجمة والحديث، فان قضية الترجمة مرجعها النصف وقضية الحديث مرجعها الثلث ثم الربع وأجيب بأن أشار بالترجمة الى لفظ حديث اٰخر ورد ليس على شرطه .» [فتح الباري لابن حجر: 457/10]
”ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت کو مشکل خیال کیا گیا ہے کیوں کہ قضیہ ترجمۃ کا مرجع نصف ہے، (یعنی ایک کا کھانا دو کے لیے کافی ہے) جبکہ حدیث کا قضیہ ثلث پر ربع ہے، (یعنی دو کا کھانا تین اور تین کا کھانا چار کے لیے کافی ہے) تو اس کا جواب دیا گیا ہے کہ ترجمۃ الباب کے ذریعے ایک اور حدیث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر نہیں ہے، (جسے امام مسلم رحمہ اللہ نے نکالا ہے، اس میں واضح الفاظ ہیں کہ ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے کافی ہے۔)“
ابن المنیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «ورد حديث بلفظ الترجمة، لكنه لم يوافق بشرط البخاري، فاستقرأ معناه من حديث الباب .» [لب اللباب: 271/4]
امام بخاری رحمہ اللہ نے جو حدیث کے الفاظ تھے انہیں ترجمۃ الباب میں شامل کر دیا لیکن وہ حدیث امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر نہ تھی پس اسی لیے اس کے معنی کو ترجمۃ الباب میں برقرار رکھا۔“
امام ابن المنیر رحمہ اللہ کے مطابق امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں جو الفاظ نقل فرمائے وہ حدیث کے الفاظ ہیں، مگر تحت الباب اس حدیث کو ذکر اس لیے نہیں فرمایا کہ وہ آپ کی شرط پر نہیں تھی۔
ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: «وأخرجه مسلم والترمذي وقال: حسن، صحيح، والنسائي ولفظ الترجمة أخرجه الترمذي من حديث جابر مرفوعاً: طعام الواحد يكفي الاثنين، وطعام الاثنين يكفي الأربعة، وطعام الأربعة يكفي الثمانين .» [التوضيح لشرح الجامع الصحيح: 26]
’’ (امام بخاری رحمہ اللہ نے جو باب قائم فرمایا ہے، اس حدیث کو) امام مسلم رحمہ اللہ نے اور ترمذی رحمہ اللہ نے نکالا ہے اور کہا ہے کہ حسن، صحیح اور نسائی میں اور ترمذی میں الفاظ ہیں، (جو ترجمۃ الباب میں ہیں) جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً کہ ایک کا کھانا دو کے لیے کافی ہے اور دو کا کھانا چار کے لیے اور چار کا کھانا آٹھ لوگوں کے لیے کافی ہے۔“
علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «وهذه الترجمة لفظ حديث أخرجه ابن ماجة باسناده من حديث عمر مرفوعاً وروى الطبراني من حديث ابن عمر رضى الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كلوا جميعا ولا تفرقوا، فان طعام الواحد يكفي الاثنين .» [عمدة القاري للعيني: 63/21]
”یعنی یہ ترجمۃ الباب جس حدیث پر قائم ہے، اس کو ابن ماجہ نے اپنی سند سے مرفوعاً نکالے ہیں اور امام طبرانی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ سب مل کر جدا جدا نہ رہو پس یقیناً ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو کفایت کرتا ہے۔“
علامہ قسطلانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: ”امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں اشارہ اس حدیث کی طرف فرمایا ہے جسے امام مسلم رحمہ اللہ نے نکالا ہے۔“ [ارشاد الساري: 187/92]
ان اقتباسات کا خلاصہ یہ ہے کہ ترجمۃ الباب میں وارد شدہ الفاظ دراصل حدیث کے ہیں اور وہ حدیث امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر نہیں تھی، اس لیے آپ رحمہ اللہ نے اس کی طرف اشارہ کر دیا ہے، لیکن ان تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہوا کو قلیل طعام کثیر لوگوں کو کفایت کر جائے گا یہی مراد ہے ترجمۃ الباب کی۔
بظاہر حدیث ترجمہ باب کے مطابق نہیں ہے مگر حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی عادت کے موافق حدیث کے دوسرے طریق کی طرف اشارہ کیا ہے جسے امام مسلم نے نکالا ہے۔
اس میں صاف یوں ہے کہ ایک آدمی کا کھانا دوکو کفایت کرتا ہے۔
(1)
جس کھانے سے دو آدمی سیر ہو سکتے ہیں، اس پر تین آدمی بھی قناعت کر سکتے ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان سے ایک حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک کا کھانا دو کے لیے، دو کا تین چار کے لیے اور چار کا پانچ چھ آدمیوں کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الأطعمة، حدیث: 3255)
طبرانی کی ایک روایت میں اس کا سبب بیان کیا گیا ہے کہ مل کر اکٹھے کھانا کھاؤ اور جدا جدا ہو کر نہ کھاؤ کیونکہ ایک کا کھانا دو کے لیے کافی ہے۔
(المعجم الأوسط للطبراني، رقم: 7444، و سلسلة الأحادیث الصحیحة للألباني، رقم: 2691)
اس سے معلوم ہوا کہ اجتماعیت میں برکت ہے۔
جس قدر اجماعیت زیادہ ہو گی برکت میں بھی اضافہ ہو گا۔
(2)
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ ہمدردی میں برکت ہوتی ہے جس کا فائدہ تمام حاضرین کو ہوتا ہے، اس لیے کھانا کھاتے وقت اجتماعیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔
(فتح الباري: 663/9)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک شخص کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے اور دو کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے، اور چار کا کھانا آٹھ افراد کے لیے کافی ہوتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3254]
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کھانا کم ہو تو مسلمان کوچاہیے کہ دوسرے ساتھیوں کا خیال رکھ کر کھائے۔
(2)
مل کر کھانا کھانے سے تھوڑا زیادہ افراد کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور کھانے میں برکت ہوتی ہے۔
(3)
باہمی ہمدردی اور خیر خواہی مسلمانوں کی امتیازی خوبی ہے۔
«. . . 368- وبه: أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”طعام الاثنين كافي الثلاثة وطعام الثلاثة، كافي الأربعة.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لئے کافی ہوتا ہے اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے کئے کافی ہوتا ہے۔ “ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 411]
[وأخرجه البخاري 5392، ومسلم 178/2058، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ کھانا تھوڑا کھانا چاہئے۔ کھانا تھوڑا ہو تب بھی فراخدلی سے دوسروں کو اس میں شریک کرنا چاہئے۔
➋ اس حدیث میں اخلاص اور اتحاد واتفاق کی طرف بھی اشارہ ہے یعنی مسلمانوں کو باہم متفق رہنا چاہئے۔
➌ سخاوت موجبِ برکت ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جب کھانے والے مؤمن ہوں تو دو کا کھانا تین کو کفایت کر جاتا ہے، لیکن جب کھانے والے کافر ہوں یا فاسق ہوں تو دو کا کھانا ایک کو بھی کافی نہیں ہوتا۔