حدیث نمبر: 1819
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ضَافَهُ ضَيْفٌ كَافِرٌ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ، ثُمَّ أَصْبَحَ مِنَ الْغَدِ فَأَسْلَمَ ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِأُخْرَى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مَعْيٍ وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کافر مہمان آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا ، بکری دو ہی گئی ، وہ دودھ پی گیا ، پھر دوسری دو ہی گئی ، اس کو بھی پی گیا ، اس طرح وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا ، پھر کل صبح ہو کر وہ اسلام لے آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری ( دوہنے کا ) حکم دیا ، وہ دو ہی گئی ، وہ اس کا دودھ پی گیا ، پھر آپ نے دوسری کا حکم دیا تو وہ اس کا پورا دودھ نہ پی سکا ، ( اس پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث سہیل کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1819
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3256)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأطعمة 12 (5396-5397) ، صحیح مسلم/الأشربة 34 (2063) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 3 (3256) ، ( تحفة الأشراف : 12739) ، وط/صفة النبيﷺ 6 (9، 10) ، مسند احمد (2/375، 257، 415، 435، 437، 455) ، سنن الدارمی/الأطعمة 13 (2084) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5396 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5396. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5396]
حدیث حاشیہ: حدیث کا مضمون بطور اکثر ہے نہ یہ کہ بہت کھانے والے کافر ہی ہوتے ہیں۔
بعض مسلمان بھی بہت کھاتے ہیں مگر کم کھانا ہی بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5396 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5396 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5396. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5396]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کے معنی ہیں: کافر کی تمام تر حرص پیٹ بھرنا ہوتی ہیں، اس لیے وہ حیوانوں کی طرح کھاتا ہے اور مومن کا اصل مقصود آخرت کا حصول ہے، اس لیے وہ کم کھانے پر اکتفا کر کے صرف جسم اور روح کے رشتے کو قائم رکھتا ہے، کم کھانا ایمان کی عمدہ خصلت ہے اور زیادہ کھانے کی حرص کفر کی خصلت ہے۔
بہرحال مومن کو چاہیے کہ وہ بھوک مٹانے کے لیے کھائے اور تھوڑا کھانے پر قناعت کرے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5396 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5397 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5397. سیدنا ابو ہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ ایک آدمی بہت کھانا کھاتا تھا۔ وہ مسلمان ہوا تو بہت کم کھانے لگا۔ اس امر کا ذکر نبی ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا: بلاشبہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور سات آنتوں میں کھاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5397]
حدیث حاشیہ: اس حدیث کی شرح میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ کافر کی تمام تر حرص پیٹ ہوتا ہے اور مومن کا اصل مقصود آخرت ہوا کرتی ہے۔
پس مومن کی شان یہی ہے کہ کھانا کم کھانا ایمان کی عمدہ سے عمدہ خصلت ہے اورزیادہ کھانے کی حرص کفر کی خصلت ہے۔
(حجة اللہ البالغة)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5397 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5397 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5397. سیدنا ابو ہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ ایک آدمی بہت کھانا کھاتا تھا۔ وہ مسلمان ہوا تو بہت کم کھانے لگا۔ اس امر کا ذکر نبی ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا: بلاشبہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور سات آنتوں میں کھاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5397]
حدیث حاشیہ:
(1)
علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ سات آنتوں سے مراد سات صفات ہیں جو کافر میں پائی جاتی ہیں۔
وہ طبعی خواہش، شہوت نفس، آنکھ کی شہوت، منہ کی شہوت، کان کی خواہش، ناک کی چاہت اور بھوک کی خواہش ہیں۔
یہ آخری (بھوک کی خواہش)
ضروری ہے جس میں مومن کھاتا ہے اور کافر سب میں کھاتا ہے۔
(عمدة القاري: 405/14) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ کھانے کے معاملے میں لوگوں کے تین طبقے ہیں: ٭ جو ہر قسم کا کھانا چٹ کر جاتے ہیں، خواہ انہیں ضرورت ہو یا نہ ہو۔
ایسا کام جہالت پیشہ لوگوں کا ہے۔
٭ ایک گروہ ہے جو بھوک کے وقت کھاتے ہیں اور اتنا کھاتے ہیں جس سے بھوک ختم ہو جائے۔
٭ کچھ لوگ ایسے ہیں جو شہوت نفس کو توڑنے کے لیے بھوکے رہتے ہیں اور صرف جسم اور روح کا رشتہ قائم رکھنے کے لیے کچھ کھا لیتے ہیں۔
غالباً حدیث سے دوسرا طبقہ مراد ہے کیونکہ مومن کی شان یہی ہے اور پہلا طبقہ تو کافروں کا ہے۔
(فتح الباري: 699/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5397 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2063 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک کافر مہمان ٹھہرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری دوہنے کا حکم دیا، وہ دوہی گئی اور اس نے اس کا دودھ پی لیا، پھر دوسری دوہی گئی تو اس نے اس کا برتن بھی خالی کر دیا، پھر تیسری دوہی گئی، حتی کہ اس نے سات بکریوں کا دودھ پی لیا، پھر وہ مسلمان ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری دوہنے کا حکم دیا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5379]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس قسم کا واقعہ کئی مسلمان ہونے والے کافروں کے ساتھ پیش آیا، ابو غزوان، جہجاہ غفاری، ابو بصرہ غفاری، نضلہ بن عمرو، ثمامہ بن اثال، قاضی عیاض اور امام نووی نے اس حدیث کا مصداق نضلہ بن عمرو کو قرار دیا ہے، لیکن حافظ ابن حجر اس پر مطمئن نہیں ہے، (فتح الباري، باب المؤمن ياكل معي واحد: ج 9)
۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2063 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3256 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنت میں کھاتا ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3256]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سات آنتوں میں کھانے سےمراد بہت زیادہ کھانا ہے۔

(2)
حرص اور لالچ مومن کی شان کے لائق نہیں۔

(3)
زیادہ پیٹ بھر کر کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہے اس لیے اسی قدر کھانا کھانا چاہیے جو آسانی سے ہضم ہو جائے۔

(4)
مومن اللہ کانام لے کر کھاتا ہے اس لیے اس کے کھانے میں برکت ہوتی ہے۔
کافر اللہ کانام لے کر نہیں کھاتا اس لیے اس کے کھانے میں برکت نہیں ہوتی اور کھانے میں اس کے ساتھ شیطان شریک ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3256 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 409 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´مسلمان ایک آنت سے کھاتا ہے`
«. . . 367- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يأكل المسلم فى معى واحد، والكافر فى سبعة أمعاء. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 409]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 5396، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ عام طور پر کھانا تھوڑا کھانا چاہئے لیکن بعض اوقات ضرورت کے مطابق پیٹ بھر کر کھانا بھی جائز ہے۔ دیکھئے: الموطأ حدیث: 119
➋ کھانے پینے میں اسراف اور غیر ضروری اخراجات اچھا کام نہیں ہے بلکہ کوشش کرکے کفایت شعاری کو اپنانا چاہئے تاہم ضرورت کے وقت مثلاً مہمان اور دوست وغیرہ کی میزبانی اور جائز خواہش کے مطابق بہترین کھانے تیار کرکے پیش کرنا اور خود کھانا بھی صحیح ہے جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مہمانوں کے لئے بچھڑا ذبح کرکے اس کا گوشت بھون کر پیش کردیا تھا۔
➌ جو چیز نقصان دہ ہو اُس سے بچنا ضروری ہے مثلاً شوگر کے مریض کے لئے چینی سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
➍ کم کھانے سے، اللہ کے فضل وکرم سے صحت اچھی رہتی ہے۔
➎ کافر بہت زیادہ کھاتا اور پیتا ہے۔ دیکھئے: الموطأ حدیث: 445
➋ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوۓ سنا: آدمی کے پیٹ سے زیادہ بری تھیلی کوئی نہیں جسے بھرا جاتا ہے۔ آدمی کے لئے چند نوالے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں۔ اگر کھانا پینا ضروری ہے تو ایک تہائی کھانے کے لئے، ایک تہائی پینے کے لئے اور ایک تہائی سانس لینے کے لئے چھوڑنا چاہیے۔ [سنن الترمذي: 2380 وقال: هٰذا حديث حسن صحيح أحمد 4/132 ح17318، دوسرا نسخه: 17186، وسنده حسن]
➐ اس حدیث میں ایک بہترین نکتہ یہ بھی ہے کہ دنیا صرف کھانے پینے اور آرام کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ دنیا دارالعمل ہے۔ اہل ایمان کے نزدیک رضائے الٰہی اول اور کھانا پینا ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 367 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 410 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´مسلمان ایک آنت سے پیتا ہے`
«. . . 445- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أضاف ضيفا كافرا، فأمر له رسول الله صلى الله عليه وسلم بشاة فحلبت فشرب حلابها، ثم أخرى فشربه ثم أخرى فشربه حتى شرب حلاب سبع شياه. ثم إنه أصبح فأسلم، فأمر له رسول الله صلى الله عليه وسلم بشاة فحلبت فشرب حلابها، ثم أمر له بأخرى فلم يستتمها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن المؤمن يشرب فى معى واحد، والكافر يشرب فى سبعة أمعاء. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کافر کی میزبانی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، ایک بکری کا دودھ دوھا گیا تو اس (کافر) نے (سارا) دودھ پی لیا پھر دوسری کو دوھا گیا تو اس نے (سارا) پی لیا پھر تیسری کو دوھا گیا تو اس نے پی لیا۔ حتیٰ کہ سات بکریوں کا دودھ اس نے پی لیا پھر جب صبح ہوئی تو وہ مسلمان ہو گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ایک بکری کا دودھ نکالا گیا تو اس نے پی لیا پھر دوسری کا دودھ لایا گیا تو وہ پی نہ سکا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 410]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 2063، من حديث ما لك به، و من رواية يحي بن يحي . وجاء فى الأصل: يستمتها]
تفقه:
➊ اسلام کافروں کے ساتھ بھی اچھے سلوک کا حکم دیتا ہے۔
➋ اسلام کی دعوت دینے کے لئے کفار و مبتدعین کے ساتھ صحیح العقیدہ مسلمانوں کا تعلقات قائم کرنا پسندیدہ کام ہے۔
➌ کافروں کا مطمع نظر دنیاوی زندگی، کھانا پینا اور مسلمانوں کو لوٹنا مارنا ہے۔
➍ کافر کی دعوت کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس سے کوئی شرعی یا جائز فائدہ حاصل ہو۔
➎ نیز دیکھئے: [الموطأ حديث: 367، البخاري 5396]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 445 سے ماخوذ ہے۔