حدیث نمبر: 1811
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ : " الثُّومُ مِنْ طَيِّبَاتِ الرِّزْقِ " ، وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَسَمِعَ مِنْهُ وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ هُوَ الرِّيَاحِيُّ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كَانَ أَبُو خَلْدَةَ خِيَارًا مُسْلِمًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ` لہسن حلال رزق ہے ۔ ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے ، وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ، انہوں نے انس بن مالک سے ملاقات کی ہے اور ان سے حدیث سنی ہے ، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے اور یہ رفیع ریاحی ہیں ، عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں : ابوخلدہ ایک نیک مسلمان تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1811
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: (1811) إسناده ضعيف, محمد بن حميد ضعيف ( تقدم:85)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف : 18646) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن حمید رازی ضعیف راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔`
ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ لہسن حلال رزق ہے۔ ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے، وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، انہوں نے انس بن مالک سے ملاقات کی ہے اور ان سے حدیث سنی ہے، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے اور یہ رفیع ریاحی ہیں، عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: ابوخلدہ ایک نیک مسلمان تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1811]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں محمد بن حمید رازی ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1811 سے ماخوذ ہے۔