حدیث نمبر: 1810
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَزَلَ عَلَيْهِمْ فَتَكَلَّفُوا لَهُ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ فَكَرِهَ أَكْلَهُ " ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " كُلُوهُ فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وَأُمُّ أَيُّوبَ هِيَ امْرَأَةُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام ایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ہجرت کے بعد ) ان کے گھر ٹھہرے ، ان لوگوں نے آپ کے لیے پرتکلف کھانا تیار کیا جس میں کچھ ان سبزیوں ( گندنا وغیرہ ) میں سے تھی ، چنانچہ آپ نے اسے کھانا ناپسند کیا اور صحابہ سے فرمایا : ” تم لوگ اسے کھاؤ ، اس لیے کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میں ڈرتا ہوں کہ میں اپنے رفیق ( جبرائیل ) کو تکلیف پہچاؤں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ۲- ام ایوب ابوایوب انصاری کی بیوی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1810
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (3364)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الأطعمة 59 (3364) ، ( تحفة الأشراف : 18304) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3364 | مسند الحميدي: 342

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 342 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
342- سیدہ ام ایوب انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں ٹھہرے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانے میں سبزی پکائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ پسند نہیں آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم لوگ اسے کھالو، کیونکہ میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں اپنے ساتھی (یعنی فرشتے) کو اذیت پہنچاؤں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:342]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ہر وہ چیز کھانا یا استعمال کرنا نا پسندیدہ ہے جس سے منہ سے بدبو آنا شروع ہو جائے، مثلا: پیاز، لہسن، حقہ، سگریٹ وغیرہ۔ یاد رہے کہ پیاز اور لہسن کو پکا کر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اس سے بو ختم ہو جاتی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جبرائیل امین علیہ السلام میں بھی اللہ تعالیٰ نے قوت حس رکھی ہے، اس لیے تو وہ بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ بعض محدثین اور تابعین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب میں دیدار ہوا ہے۔ بعض لوگ خود ہی جھوٹے خواب بنا کر لوگوں کو مرعوب کرتے پھرتے ہیں، ان کی فریب کاریوں میں نہیں آنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 342 سے ماخوذ ہے۔