حدیث نمبر: 1807
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَيُّوبَ وَكَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بَعَثَ إِلَيْهِ بِفَضْلِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ يَوْمًا بِطَعَامٍ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَى أَبُو أَيُّوبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِيهِ ثُومٌ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ ؟ ، قَالَ : " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ہجرت کے بعد ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کے گھر ٹھہرے ، آپ جب بھی کھانا کھاتے تو اس کا کچھ حصہ ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کے پاس بھیجتے ، آپ نے ایک دن ( پورا ) کھانا ( واپس ) بھیجا ، اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کھایا ، جب ابوایوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : ” اس میں لہسن ہے ؟ “ ، انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا وہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، لیکن اس کی بو کی وجہ سے میں اسے ناپسند کرتا ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1807
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (2511)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 1807) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2053

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2053 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی کھانا لایا جاتا، آپ اس سے کھا لیتے اور اس کا بچا ہوا حصہ میری طرف بھیج دیتے اور آپ نے ایک دن مجھے بچا ہوا کھانا بھیجا، جس سے آپﷺ نے کھایا نہیں تھا، کیونکہ اس میں لہسن تھا تو میں نے آپﷺ سے پوچھا: کیا وہ حرام ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’نہیں، لیکن میں اسے اس کی بو کی وجہ سے ناپسند کرتا ہوں‘‘ میں نے کہا: جو آپ کو ناپسند ہے مجھے بھی ناپسند ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5356]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: کچا لہسن کھانا پسندیدہ نہیں ہے، کیونکہ اس میں بو ہوتی ہے، لیکن اگر اس کو اچھی طرح پکا کر اس کی بو ختم کر دی جائے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، کچا لہسن کھا کر مسجد میں یا مجلس میں آنا درست نہیں ہے اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے، اگر کھانا بھیجنے والا زیادہ کھانا بھیج دے یا کوئی دوسرا اس میں سے کچھ کھانے کا خواہش مند ہو تو اس کا کچھ حصہ چھوڑ دینا چاہیے، کیونکہ اس حدیث میں اس دور کی صورت حال بیان کی گئی، جب آپ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2053 سے ماخوذ ہے۔