سنن ترمذي
كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ مَا يُسْتَنْجَى بِهِ باب: کن کن چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسْتَنْجُوا بِالرَّوْثِ وَلَا بِالْعِظَامِ فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ " . وَفِي الْبَاب : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَسَلْمَانَ , وَجَابِرٍ , وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرُهُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَسْتَنْجُوا بِالرَّوْثِ وَلَا بِالْعِظَامِ فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ " , وَكَأَنَّ رِوَايَةَ إِسْمَاعِيل أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَفِي الْبَاب : عَنْ جَابِرٍ , وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا .´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” گوبر اور ہڈی سے استنجاء نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائیوں جنوں کی خوراک ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ابوہریرہ ، سلمان ، جابر ، ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث مروی ہیں ۔
۲- اسماعیل بن ابراہیم وغیرہ نے بسند «داود ابن ابی ہند عن شعبی عن علقمہ» روایت کی ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ «لیلة الجن» میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۲؎ آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی جو لمبی ہے ، شعبی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا گوبر اور ہڈی سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائیوں ( جنوں ) کی خوراک ہے ، ۳- گویا اسماعیل بن ابراہیم کی روایت حفص بن غیاث کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۳؎ ، ۴- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ، ۵- اور اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۲؎: امام ترمذی نے اس سند سے جس لمبی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے اس کو خود وہ سورۃ الاحقاف کی تفسیر میں (رقم: ۳۲۵۸) لائے ہیں (نیز یہ حدیث مسلم (رقم ۴۵۰) میں بھی ہے) اس میں تو صاف ذکر ہے کہ سوال کرنے پر عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے اپنے کو «لیلۃ الجن» میں موجود ہونے سے انکار کیا، اور صحیح بات یہی ہے کہ ابن مسعود رضی الله عنہ کے اس «لیلۃ الجن» میں موجود رہنے کی تمام روایات ضعیف ہیں، جن میں جنوں نے اپنے کھانے کا سوال کیا تھا، یا جس میں نبیذ سے وضو کا ذکر ہے، ہاں دو تین بار کسی اور موقع سے جنوں سے ملاقات کی رات آپ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے (الکوکب الدری فی شرح الترمذی)
۳؎: حفص بن غیاث اور اسماعیل بن ابراہیم کی حدیثوں میں فرق یہ ہے کہ حفص کی روایت سے «لا تستنجوا ……» کی حدیث متصل مرفوع ہے، جبکہ اسماعیل کی روایت سے یہ شعبی کی مرسل حدیث ہو جاتی ہے (اور اس ارسال پر دیگر بہت سے ثقات نے اسماعیل کی متابعت کی ہے) اور مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے، مگر صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت (جس کا تذکرہ مؤلف نے کیا ہے) اس کی صحیح شاہد ہے، نیز دیگر شواہد سے اصل حدیث ثابت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” گوبر اور ہڈی سے استنجاء نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائیوں جنوں کی خوراک ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 18]
1؎:
یہی صحیح ہے کہ ہڈی اورگوبر دونوں کوآپ ﷺ نے جنوں کا توشہ قراردیا، اوروہ روایتیں ضعیف ہیں جن میں ہے کہ ہڈی جنوں کا، اورگوبر اُن کے جانوروں کا توشہ ہے (دیکھئے ضعیفہ رقم: 1038)
2؎:
امام ترمذی نے اس سند سے جس لمبی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے اس کو خود وہ سورہ احقاف کی تفسیرمیں (رقم: 3258) لائے ہیں ’’نیزیہ حدیث مسلم (رقم: 450) میں بھی ہے‘‘ اس میں تو صاف ذکر ہے کہ سوال کرنے پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے کو ’’لیلۃ الجن‘‘ میں موجود ہونے سے انکار کیا، اورصحیح بات یہی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس ’’لیلۃ الجن‘‘ میں موجود رہنے کی تمام روایات ضعیف ہیں، جن میں جنوں نے اپنے کھانے کا سوال کیا تھا، یا جس میں نبیذ سے وضو کا ذکر ہے، ہاں دوتین بارکسی اورموقع سے جنوں سے ملاقات کی رات آپ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے (الکوکب الدری فی شرح الترمذی)
3؎:
حفص بن غیاث اوراسماعیل بن ابراہیم کی حدیثوں میں فرق یہ ہے کہ حفص کی روایت سے ((لاَتَسْتَنْجُوا .....)) کی حدیث متصل مرفوع ہے، جبکہ اسماعیل کی روایت سے یہ شعبی کی مرسل حدیث ہوجاتی ہے (اوراس ارسال پردیگربہت سے ثقات نے اسماعیل کی متابعت کی ہے) اورمرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے، مگر صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت (جس کا تذکرہ مؤلف نے کیا ہے) اس کی صحیح شاہد ہے، نیز دیگرشواہد سے اصل حدیث ثابت ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ تم میں سے کوئی ہڈی یا گوبر سے استنجاء کرے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 39]
➋ ہڈی میں جذب کرنے کی صلاحیت نہیں، بلکہ وہ سخت ہوتی ہے، لہٰذا وہ صحیح صفائی نہ کر سکے گی اور گوبر یا لید تو خود بھی نجس یا نجاست کی طرح ہیں۔ ان سے کیا صفائی ہو گی؟ علاوہ ازیں ہڈی اور لید جنوں اور ان کے جانوروں کی خوراک بھی ہیں، لہٰذا انہیں گندگی سے آلودہ کرنا منع ہے، احادیث میں اس کی صراحت ہے۔
➋ بلکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف حدیث مروی ہے کہ
«لَمْ أَكُنْ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَهُ»
”میں شب جن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود نہیں تھا حالانکہ میری خواہش تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا۔ [صحيح مسلم/ فواد: 450، دارالسلام: 1010]
(امام نووی رحمہ اللہ) یہ (صحيح مسلم کی) حدیث سنن ابی داود میں مروی حدیث ”کہ جس میں نبیذ سے وضو اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا شب جن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہونا مذکور ہے“ کے بطلان میں واضح (ثبوت) ہے کیونکہ یہ حدیث صحیح ہے اور روایت نبیذ محدثین کے اتفاق کے ساتھ ضعیف ہے۔ [شرح مسلم 307/2]
➍ ابوعبیدہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ کے والد شب جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ تو انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ [دارقطني 77/1]
➎ امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسی موقف کو ترجیح دی ہے۔ [ترمذي بعد الحديث 77]
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے کہا: کیا جنوں والی رات میں آپ لوگوں میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہیں تھا، آپ مکہ میں تھے اس وقت کی بات ہے، ایک رات ہم نے آپ کو نائب پایا، ہم نے کہا: آپ کا اغوا کر لیا گیا ہے یا (جن) اڑا لے گئے ہیں، آپ کے ساتھ کیا کیا گیا ہے؟ بری سے بری رات جو کوئی قوم گزار سکتی ہے ہم نے ویسی ہی اضطراب وبے چینی کی رات گزاری، یہاں تک کہ جب صبح ہوئی، یا صبح تڑکے کا وقت تھا اچانک ہم نے دیکھا کہ آپ حرا کی جانب سے تشریف لا رہے ہیں، لوگوں نے آپ سے ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3258]
وضاحت:
نوٹ:
(اس حدیث پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو: (الضعیفة رقم: 1038)