سنن ترمذي
كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ.´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا ، اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے عمرو بن دینار کے واسطہ سے جابر سے روایت کی ہے ، ۳- حماد بن زید نے اسے بسند «عمرو بن دينار عن محمد بن علي عن جابر» روایت کیا ہے ، ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے ، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : سفیان بن عیینہ حماد بن زید سے حفظ میں زیادہ قوی ہیں ، ۵- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا، اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1793]
وضاحت:
1؎:
معلوم ہواکہ گھوڑے کا گوشت حلا ل ہے، سلف و خلف میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر علما کی اکثریت اس کی حلت کی قائل ہے، جو اسے حرام سمجھتے ہیں، یہ حدیث اور اسی موضوع کی دوسری احادیث ان کے خلاف ہیں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گدھے کا گوشت حرام ہے، اس کی حرمت کی وجہ جیسا کہ بخاری میں ہے یہ ہے کہ یہ ناپاک اور پلید حیوان ہے۔
ایک حدیث جسے غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، گھریلو گدھے کھانے کے متعلق بطور جواز پیش کی جاتی ہے، انہوں نے کہا: ہم قحط سے دوچار ہوئے۔
میرے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جو میں اپنے گھر والوں کو کھلا سکتا، صرف چند گدھے ہی تھے۔
وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کر دیے تھے۔
میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اللہ کے رسول! ہم قحط زدہ ہیں اور میرے پاس کوئی چیز نہیں جو میں اپنے اہل خانہ کو کھلا سکوں، چند ایک موٹے تازے گدھے ہیں لیکن آپ نے پالتو گدھوں کا گوشت حرام کر دیا ہے تو آپ نے فرمایا: ’’اپنے اہل خانہ کو کھلا سکوں، چند ایک موٹے تازے گدھے ہیں لیکن آپ نے پالتو گدھوں کا گوشت حرام کر دیا ہے تو آپ نے فرمایا: ‘‘ اپنے اہل خانہ کو ان موٹے گدھوں میں سے کھلا دو۔
میں نے انہیں اس لیے حرام کیا تھا کہ یہ بستی کی گندگی کھاتے ہیں۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأطعمة، حدیث: 3809)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کا متن شاذ اور صحیح احادیث کے خلاف ہے، لہذا یہ حدیث بطور دلیل نہیں پیش کی جا سکتی۔
(فتح الباري: 811/9)
امام مالک سے کراہیت تنزیہی اور تحریمی دونوں منقول ہیں۔
امام ابو حنیفہ سے تین قول منقول ہیں کراہت تنزیہی و تحریمی، رجوع عن القول بالتحریم۔
حنفیہ کے ہاں اصح اور ارجح قول تحریم کا ہے۔
طرفین کے دلائل اور جوابات شروح بخاری (فتح الباري، عیني)
شرح مؤطا امام مالک للزرقانی و شرح معانی الآثار للطحاوی میں بالتفصیل مذکور ہیں۔
حلت کے دلائل واضحہ قویہ آ جانے کے بعد تعامل یا عمل امت کی طرف التفات بے معنی اور لغو کام ہے۔
حجت شرعی کتاب و سنت اور اجماع پھر قیاس صحیحہ ہے گھوڑے کا عام اور بڑا مصرف شروع ہی سے سواری رہا ہے۔
اس لیے اس کے کھانے کا رواج نہیں ہے۔
علاوہ بریں عطاء بن ابی رباح سے تمام صحابہ کی طرف سے بلا استثناء احد ے اکل لحم خیل کی نسبت ثابت ہے: کان السلف (أي الصحابة)
کانوا یأکلون (ابن أبي شیبة) (عبیداللہ رحمانی مبارک پوری)
(1)
ایک روایت میں ہے کہ ہم نے مدینہ طیبہ میں رہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں گھوڑے کا گوشت کھایا۔
(إرواء الغلیل للألباني: 145/8، رقم: 2493)
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ فرضیتِ جہاد کے بعد کا واقعہ ہے۔
جو لوگ جہاد کی آڑ میں اسے حرام کہتے ہیں، یہ روایت ان کے خلاف ہے۔
پھر ایک روایت میں ہے کہ ہم نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ نے اسے کھایا تھا، (المعجم الکبیر للطبراني: 87/24، رقم: 232)
اس سے یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا بخوبی علم تھا حتی کہ آپ کے اہل خانہ نے اسے تناول فرمایا۔
چونکہ گھوڑے کا عام استعمال سواری رہا ہے، اس لیے اس کے کھانے کا رواج عام نہیں ہوا۔
اگرچہ گھوڑا دشمن کو خوفزدہ کرنے اور اسے ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اس کے باوجود اس کی حلت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حضرت عطاء سے بیان کیا ہے کہ اسلاف اس کا گوشت کھایا کرتے تھے۔
ابن جریج نے مزید پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی؟ انہوں نے فرمایا: وہ بھی اسے کھاتے تھے۔
(فتح الباري: 804/9)
اس کی مزید تفصیل فتح الباری میں دیکھی جا سکتی ہے۔
واللہ أعلم
کا گوشت کھانا بالاتفاق جائز ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا، اور ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم دیا۔ عمرو کہتے ہیں: ابوالشعثاء کو میں نے اس حدیث سے باخبر کیا تو انہوں نے کہا: حکم غفاری بھی ہم سے یہی کہتے تھے اور اس «بحر» (عالم) نے اس حدیث کا انکار کیا ہے ان کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3808]
فائدہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علم وفضل کی بنا پر انہیں (بحر الأمة یا حبر الأمة) کہا جاتا ہے۔
اور گدھوں کے بارے میں ان کا یہ قول شاید وضاحت کے ساتھ حدیث نہ پہنچنے کے سبب تھا۔
صحیحین میں شعبی کے حوالے سے ان کا قول مروی ہے۔
کہ مجھے معلوم نہیں کہ (خیبر کے موقع پر) رسول اللہ ﷺ نے اس وجہ سے گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا۔
کہ لوگ سواریوں سے محروم نہ ہوجایئں۔
یا ان کو حرام قرار دیا تھا۔
لیکن بالاخر جب انھیں بالوضاحت حرمت کی احادیث پہنچیں۔
حضرت ابی طالب سے بھی ان کی بحث ہوئی تو یقین کے ساتھ وہ ان کی حرمت کے قائل ہوگئے تھے۔
(فوائد ابن القیم)
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن ہم نے گھوڑوں اور نیل گائے کا گوشت کھایا، اور ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (گھریلو) گدھے (کے گوشت کھانے) سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4348]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے دن گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4332]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے، میں نے کہا: اور خچروں کا؟ کہا: نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3197]
فوائد و مسائل:
(1)
خچر کا گوشت کھانا منع ہے۔
(2)
خچر کی پیدائش گدھے اور گھوڑے کے اختلاط سے ہوتی ہے۔
گدھا حرام ہے اور گھوڑی حلال ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایک چیز میں حلت کا پہلو بھی موجود ہو اور حرمت کا بھی تو حرمت کے پہلو کو ترجیح حاصل ہوگی اور وہ چیز حرام ہوگی۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے خیبر کے زمانہ میں گھوڑے اور نیل گائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3191]
فوائد و مسائل:
(1)
جنگلی گدھے کو گورخر بھی کہتے ہیں۔ (اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے: (حدیث: 3090کا فائدہ نمبر: 1)
(2)
عام گدھا حمار اهلي (پالتو گدھا)
کہلاتا ہے۔
یہ حرام ہے جیسے کہ اگلی حدیث میں آ رہاہے۔
(3)
بعض علماء نے گھوڑوں کو حرام قراردیا ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے: ﴿وَالْخَيْلَ وَالَبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَة﴾ (النحل: 8، 16)
‘‘ اور (اللہ نے تمھارے لیے)
گھوڑے، خچراور گدھے (پیدا کیے)
تاکہ تم ان پر سواری کرو اور (وہ تمھاری)
زینت (ہوں۔
’‘)
یہاں کھانے کا ذکر نہیں۔
لیکن یہ استدلال درست نہیں کیونکہ ایک فائدے کے ذکر سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ اس کا دوسرا کوئی فائدہ نہیں۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (سنن ابو داود، (اردو طبع دارالسلام)
اس حدیث میں گھوڑے کی حلت اور گدھے کی حرمت کا بیان ہے، گھوڑا حلال ہے، عطاء تابعی کہتے ہیں: ´´لم يزل سلفك يأكلونه`` ” تیرے سلف گھوڑے کو ہمیشہ کھاتے رہے ہیں“
ابن جریح فرماتے ہیں: میں نے عطاء سے کہا: ´آپ تیرے سلف سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ یہم اجمعین لے رہے ہیں؟` انہوں نے کہا: ہاں۔ (مسند ابن ابی شیبه، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کو باسناد صحيح علی شرط شیخین قرار دیا ہے۔ فتح الباری: 650 / 9)