سنن ترمذي
كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبِّ باب: ضب (گوہ) کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ فَقَالَ : " لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عُمَرَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ ، وَجَابِرٍ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي أَكْلِ الضَّبِّ فَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ ، وَيُرْوَى عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " أُكِلَ الضَّبُّ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّمَا تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَذُّرًا " .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضب ( گوہ ) کھانے کے بارے میں پوچھا گیا ؟ تو آپ نے فرمایا : ” میں نہ تو اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عمر ، ابو سعید خدری ، ابن عباس ، ثابت بن ودیعہ ، جابر اور عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- ضب کھانے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، بعض اہل علم صحابہ نے رخصت دی ہے ، ۴- اور بعض نے اسے مکروہ سمجھا ہے ، ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر ضب کھایا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبعی کراہیت کی بنا پر اسے چھوڑ دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضب (گوہ) کھانے کے بارے میں پوچھا گیا؟ تو آپ نے فرمایا: ” میں نہ تو اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1790]
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ ضب کھانا حلال ہے، بعض روایات میں ہے کہ آپﷺ نے اسے کھانے سے منع فرمایا ہے، لیکن یہ ممانعت حرمت کی نہیں بلکہ کراہت کی ہے، کیوں کہ صحیح مسلم میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اسے کھاؤ یہ حلال ہے، لیکن یہ میرا کھانا نہیں ہے، ضب کا ترجمہ گوہ سانڈا اورسوسمار سے کیا جاتا ہے، واضح رہے کہ اگران میں سے کوئی قسم گرگٹ کی نسل سے ہے تو وہ حرام ہے، زہریلا جانور کیچلی دانت والا پنچہ سے شکارکرنے اور اسے پکڑ کر کھانے والے سبھی جانورحرام ہیں۔
ایسے ہی وہ جانور جن کی نجاست وخباثت معروف ہے، لفظ ضب پر تفصیلی بحث کے لیے سنن ابن ماجہ میں انہی ابواب کا مطالعہ کریں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ صحابی ہو کر بہت کم حدیث بیان کرتے تھے۔
یہ احتیاط کی بنا پر تھا کہ خدا نخواستہ کوئی غلط حدیث بیان میں آئے اور میں زندہ دوزخی بنوں کیونکر غلط حدیث بیان کروں۔
تشریح: قرآن وحدیث پر چنگل مارنا اور ان کے خلاف رائے وقیاس سے بچنا بنیاد ایمان ہے۔
سب سے پہلے رائے قیاس پر عمل کرنے اور نصر صریح کو رد کرنے والا ابلیس ہے۔
قرآن مجید کی صریح آیات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے منکر کی سزا یہی ہے کہ وہ دوزخ میں اپنا ٹھکانا بنا رہا ہے۔
ایک عورت ذات نے گوشت کے بارے میں بتلایا کہ وہ سانڈے کا گوشت ہے۔
اس کی خبر کو سب نے تسلیم کیا۔
اسی سے عورت کی خبر بھی قبول کی جائے گی بشر طیکہ وہ ثقہ ہو۔
اسی سے خبر واحد کا حجت ہونا ثابت ہوا جو لوگ خبر واحد کو حجت نہیں مانتے ان کا مسلک صحیح نہیں ہے جملہ احادیث کے نقل کرنے سے حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کا یہی مقصد ہے۔
والحمد للہ اولاً وآخراً یہ باب ختم ہوا۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شدت احتیاط کی وجہ سے بہت کم احادیث بیان کرتے تھے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے کوئی ایسی بات ہو جائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد نہ فرمائی ہو۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے خبر واحد کی حجیت کو بیان فرمایا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ایک عورت کے آگاہ کرنے سے اپنے ہاتھ روک لیے اور اس کی بات پر عمل کیا۔
اس لیے اگر خبر واحد ثقہ راوی سے مروی ہو تو اس کے حجت ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
واللہ أعلم۔
ایک حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے، حضرت ثابت بن ودیعہ کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ لشکر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ہمیں بہت سے سانڈے ملے۔
میں ان میں سے ایک بھون کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا اور آپ کے سامنے رکھا۔
آپ نے ایک تنکا لیا اور اس کی انگلیاں شمار کیں، پھر فرمایا: ’’بنی اسرائیل کی ایک قوم کو زمینی جانوروں کی شکل میں مسخ کر دیا گیا تھا۔
مجھے نہیں معلوم وہ کون سے جانور تھے۔
‘‘ پھر آپ نے نہ اسے کھایا اور نہ منع کیا۔
(سنن أبي داود، الأطعمة، حدیث: 3795)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانڈے سے پکی ہوئی ہانڈیاں الٹا دیں۔
(مسند أحمد: 196/4)
یہ روایت اس امر پر محمول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ان کے مسخ شدہ ہونے کا گمان تھا تو آپ نے ان ہانڈیوں کو الٹ دینے کا حکم دیا۔
جب آپ کو علم ہوا کہ مسخ شدہ انسانوں کی آگے نسل نہیں چلی تو ان کے کھانے سے توقف کیا، نہ خود کھایا اور نہ اس سے منع کیا، البتہ آپ نے خود کھانا پسند نہ فرمایا جس کی ہم آئندہ وضاحت کریں گے۔
(فتح الباري: 823/9)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانڈے کا گوشت کھانے سے منع کیا۔
(سنن أبي داود، الأطعمة، حدیث: 3796)
لیکن یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس میں اسماعیل بن عیاش نامی راوی مدلس ہے اور اس نے اس روایت کو "عن" سے بیان کیا ہے۔
واللہ أعلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے تو ضب کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ” میں اسے نہ کھاتا ہوں اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4319]
(2) معلوم ہوا حلال وطیب چیز جو طبعاً ناپسند ہو اسے کھانا ضروری نہیں۔ اس سے اس کی حلت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ طبی لحاظ سے دیکھا جائے تو ناپسند چیز کھانے سے ناخوش گوار اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
(3) حدیث میں لفظ ”ضب“ استعمال ہوا ہے۔ ہمارے ہاں عموماً اس کے معنی ”گوہ“ کیے جاتے ہیں لیکن جو اوصاف ضب کے بیان کیے گئے ہیں، وہ تمام کے تمام سانڈے میں بھی پائے جاتے ہیں، اس لیے درست بات یہی ہے کہ اس سے مراد سانڈا ہے، گوہ نہیں۔ واللہ أعلم۔
(4) معلوم ہوا ضب حرام نہیں ورنہ آپ کھانے سے منع فرما دیتے، بلکہ آپ کے دستر خوان پر آپ کے سامنے اسے کھایا گیا۔ باقی رہا آپ کا اسے نہ کھانا تو آپ کی طبع لطیف کا تقاضا تھا۔ آپ بہت سی ایسی چیزوں سے پرہیز فرماتے تھے جو قطعاً حلال ہیں، مثلاً: لہسن، پیاز وغیرہ۔ حلت اور حرمت الگ چیز ہے اور طبعی کراہت وناپسندیدگی الگ چیز ہے۔
«. . . 297- وبه: أن رجلا نادى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، ما ترى فى الضب؟ فقال: ”لست بآكله ولا محرمه.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کا ضب (سمسار) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام قرار دیتا ہوں . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 405]
تفقه:
➊ ضب (سمسار/سانڈا) حلال ہے جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔ مثلاً دیکھئے حدیث سابق: 70
➋ اگر کوئی حلال چیز پسند نہ ہو تو اسے کھانا ضروری نہیں ہے۔