حدیث نمبر: 179
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : " إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْفَوَائِتِ ، أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَضَاهَا ، وَإِنْ لَمْ يُقِمْ أَجْزَأَهُ ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ` عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا : مشرکین نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو خندق کے دن چار نمازوں سے روک دیا ۔ یہاں تک کہ رات جتنی اللہ نے چاہی گزر گئی ، پھر آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی ، پھر اقامت کہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ظہر پڑھی ، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہی تو آپ نے عصر پڑھی ، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی ، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے عشاء پڑھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ابوسعید اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۲- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث کی سند میں کوئی برائی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ابوعبیدہ نے اپنے باپ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے ، ۳- اور چھوٹی ہوئی نمازوں کے سلسلے میں بعض اہل علم نے اسی کو پسند کیا ہے کہ آدمی جب ان کی قضاء کرے تو ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت کہے ۱؎ اور اگر وہ الگ الگ اقامت نہ کہے تو بھی وہ اسے کافی ہو گا ، اور یہی شافعی کا قول ہے ۔

وضاحت:
۱؎: ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت ہی راجح ہے کیونکہ ابن مسعود اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما کی حدیثوں سے اس کی تائید ہوتی ہے، سب کے لیے ایک ہی اقامت محض قیاس ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 179
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الإرواء (239) , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / ن 623, أبو زبير عنعن (تقدم:10) وأبو عبيد بن عبد الله بن مسعود لم يسمع من أبيه (د 995) وحديث النسائي (الأصل:662) يغني عنه .
تخریج حدیث «سنن النسائی/المواقیت 55 (623) ، والأذان 22 (663) ، و23 (664) ، ( تحفة الأشراف : 9633) (حسن) (سند میں ابو عبیدہ اور ان کے باپ ابن مسعود کے درمیان انقطاع ہے، نیز ابو الزبیر مدلس ہیں اور ’’ عنعنہ ‘‘ سے روایت کیے ہوئے ہیں، مگر شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن صحیح ہے/دیکھئے نسائی حدیث رقم 483، 536 اور 622)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کئی وقت کی نماز چھوٹ جائے تو آدمی پہلے کون سی پڑھے؟`
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: مشرکین نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو خندق کے دن چار نمازوں سے روک دیا۔ یہاں تک کہ رات جتنی اللہ نے چاہی گزر گئی، پھر آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہی تو آپ نے عصر پڑھی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے عشاء پڑھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 179]
اردو حاشہ:
1؎:
ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت ہی راجح ہے کیونکہ ابن مسعود اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کی حدیثوں سے اس کی تائید ہوتی ہے، سب کے لیے ایک ہی اقامت محض قیاس ہے۔

نوٹ:
(سند میں ابو عبیدہ اور ان کے باپ ابن مسعود کے درمیان انقطاع ہے، نیز ابو الزبیر مدلس ہیں اور ’’عنعنہ‘‘ سے روایت کیے ہوئے ہیں، مگر شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن صحیح ہے/دیکھئے نسائی حدیث رقم 483، 536 اور 622)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 179 سے ماخوذ ہے۔

✍️ حافظ عمران ایوب لاہوری
فوت شدہ نمازوں کے لیے اذان۔
ایسا شخص جس کی ایک سے زائد نمازیں فوت ہو چکی ہوں وہ اذان کہے اور پھر ہر نماز کے لیے اقامت کہے جیسا کہ جنگ احزاب میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار نمازیں فوت ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ «فأمر بلال فأذن ثم أقام فصلى الظهر، ثم أقام فصلى العصر، ثم أقام فصلى المغرب، ثم أقام فصلى العشاء» آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب پڑھائی اور پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء پڑھائی۔
[ضعيف: ضعيف نسائي 21، إرواء الغليل 239، ترمذي 179، كتاب الصلاة: باب ما جاء فى الرجل تفوته الصلوات بأيتهن بيدا]
اگرچہ يہ حديث ضعيف ہے ليكن ديگر شواهد كی بنا پر معناً درست هے۔
(احمدؒ، ابو حنیفہؒ) اذان اور اقامت دونوں فوت شدہ نماز کی قضائی میں مستحب ہیں۔
(مالکؒ، شافعیؒ) اذان کہنا مستحب نہیں ہے۔
[شرح المهذب 91/3، فتح الوهاب للشيخ زكريا 33/1، الهداية 42/1، حاشية الدسوقي 191/1، كشاف القناع 244/1، سبل السلام 172/1]
(راجع) اگر انسان کسی ایسی جگہ میں ہو کہ جہاں اذان نہ کہی گئی ہو تو اذان کہی جائے گی اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اذان کہنا ضروری نہیں البتہ ہر نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی۔
درج بالا اقتباس فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 340 سے ماخوذ ہے۔