سنن ترمذي
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْخَاتَمِ الْحَدِيدِ باب: لوہے کی انگوٹھی کے استعمال کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ : " مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ " ، ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ صُفْرٍ ، فَقَالَ : " مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ " ، ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : " مَالِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ ، قَالَ : " مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا " قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ يُكْنَى أَبَا طَيْبَةَ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ .´بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا ، آپ نے فرمایا : ” کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہو ؟ “ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا ، آپ نے فرمایا : ” کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبو آ رہی ہے ؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کر آیا ، تو آپ نے فرمایا : ” کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جنتیوں کا زیور پہنے ہو ؟ اس نے پوچھا : میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں ؟ آپ نے فرمایا : ” چاندی کی اور ( وزن میں ) ایک مثقال سے کم رکھو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے ، ۳- عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اور وہ عبداللہ بن مسلم مروزی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: ” کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہو؟ “ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: ” کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبو آ رہی ہے؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ نے فرمایا: ” کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جنتیوں کا زیور پہنے ہو؟ اس نے پوچھا: میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ نے فرمایا: ” چاندی کی اور (وزن میں) ایک مثقال سے کم رکھو۔“ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1785]
نوٹ:
(اس کے راوی عبداللہ بن مسلم ابوطیبہ حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں اکثر وہم ہو جایا کرتا تھا)
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، وہ پتیل کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” کیا بات ہے، میں تجھ سے بتوں کی بدبو محسوس کر رہا ہوں؟ “ تو اس نے اپنی انگوٹھی پھینک دی، پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا بات ہے، میں تجھے جہنمیوں کا زیور پہنے ہوئے دیکھتا ہوں؟ “ تو اس نے پھر اپنی انگوٹھی پھینک دی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” چاندی کی بنواؤ اور اسے ایک مثقال سے کم رکھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4223]
اس مقدار کی حد تک چاندی کی انگوٹھی مرد کے لیئے جائز ہے۔
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ لوہے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا: ” کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں جہنمیوں کا زیور پہنے دیکھ رہا ہوں؟ “ یہ سن کر اس نے وہ انگوٹھی پھینک دی۔ پھر پیتل کی انگوٹھی پہن کر آپ کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا: ” کیا وجہ ہے مجھے تم سے بتوں کی بو محسوس رہی ہے؟ “ اس نے وہ انگوٹھی بھی پھینک دی اور بولا: اللہ کے رسول! پھر کس چیز کی بناؤں؟ آپ نے فرمایا: ” چاندی کی، [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5198]