حدیث نمبر: 1782
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ يَقُولُ : " كَانَتْ كِمَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحًا " قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ بَصْرِيٌّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ ، وَبُطْحٌ يَعْنِي وَاسِعَةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوکبشہ انماری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی آستینیں کشادہ تھیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث منکر ہے ، ۲- عبداللہ بن بسر بصرہ کے رہنے والے ہیں ، محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں ، یحییٰ بن سعید وغیرہ نے انہیں ضعیف کہا ہے ، ۳- «بطح» چوڑی اور کشادہ چیز کو کہتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1782
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (4333 / التحقيق الثاني) , شیخ زبیر علی زئی: (1782) إسناده ضعيف, أبوسعيد عبدالله بن بسر: ضعيف (تق:3230) وقال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 405/9)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 12144) (ضعیف) (اس کے راوی عبد اللہ بن بسر مکی ضعیف ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صحابہ کرام کی آستینیں کیسی تھیں؟`
ابوکبشہ انماری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی آستینیں کشادہ تھیں۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1782]
اردو حاشہ:
نوٹ:

(اس کے راوی عبد اللہ بن بسر مکی ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1782 سے ماخوذ ہے۔