حدیث نمبر: 1781
حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ " قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : لَا أَعْرِفُ لِمُجَاهِدٍ سَمَاعًا مِنْ أُمِّ هَانِئٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اس حال میں آئے کہ آپ کی چار چوٹیاں تھیں ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ام ہانی سے مجاہد کا سماع میں نہیں جانتا ہوں ۔

وضاحت:
۱؎: ممکن ہے گردوغبار سے بالوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو، کیونکہ اس وقت آپ سفر میں تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ ضَفَائِرَ " أَبُو نَجِيحٍ اسْمُهُ يَسَارٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ مَكِّيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` ام ہانی رضی الله عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1781
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3631) , شیخ زبیر علی زئی: (1781) إسناده ضعيف / د 4191، جه 3631
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4191 | سنن ابن ماجه: 3631

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے مکہ میں داخل ہونے کا بیان۔`
ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اس حال میں آئے کہ آپ کی چار چوٹیاں تھیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1781]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ممکن ہے گرد و غبار سے بالوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو، کیوں کہ اس وقت آپ سفر میں تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1781 سے ماخوذ ہے۔