حدیث نمبر: 1776
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل : وَلَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ ، وَلَا حَدِيثُ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا ۔ ٍ
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح نہیں ہے ، اور نہ ہی معمر کی حدیث جسے وہ عمار بن ابی عمار سے اور عمار ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1776
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر ما قبله (1775) , شیخ زبیر علی زئی: (1776) إسناده ضعيف, قتاده عنعن ( تقدم: 30)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 1340) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی سلیمان ضعیف ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کھڑے ہو کر جوتے پہننے کی کراہت کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ ٍ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1776]
اردو حاشہ:
وضاحت:
 
1؎:
کھڑے ہو کر جوتا پہننے میں یہ دقت ہے کہ پہننے والا بسا اوقات گر سکتا ہے، جب کہ بیٹھ کر پہننے میں زیادہ سہولت ہے، اگر کھڑے ہو کر پہننے میں ایسی کوئی پریشانی نہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

نوٹ:
(متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی سلیمان ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1776 سے ماخوذ ہے۔