حدیث نمبر: 1771
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ " وَهَذَا أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالملیح سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال ( استعمال کرنے ) سے منع فرمایا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ زیادہ صحیح ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی سند میں ابوالملیح کے بعد «عن أبیہ» کے واسطہ والی روایت جو سعید بن ابی عروبہ سے ہے، اس سے شعبہ کی یہ روایت جس میں «عن أبیہ» کا ذکر نہیں ہے، زیادہ صحیح ہے، کیونکہ سعید کی بنسبت شعبہ کا حافظہ زیادہ قوی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1771
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: (حديث عبد الله بن إسماعيل بن أبي خالد عن ... إلى أبي المليح عن أبيه) **، (حديث يحيى بن سعيد حدثنا ... إلى أبي المليح عن أبيه) صحيح، (حديث معاذ بن هشام ... إلى أبي المليح) صحيح انظر ما قبله (1770)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 19598) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4132 | سنن نسائي: 4258

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4132 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´چیتوں اور درندوں کی کھال کا بیان۔`
اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4132]
فوائد ومسائل:
درندوں کی کھالیں رنگی ہوئی ہوں یا بے رنگی سب کا یہی حکم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4132 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4258 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´درندوں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان۔`
ابوالملیح کے والد اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں سے (فائدہ اٹھانے سے) منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4258]
اردو حاشہ: درندوں کے چمڑے عموماََ متکبر لوگ استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان کے استعمال سے منع فرمایا جس طرح مسلمان مردوں کو سونے اور ریشم کے استعمال سے منع فرمایا گیا ہے۔ شیر اور چیتے وغیرہ کا چمڑا عام استعمال میں تھا۔ ممکن ہے دباغت کے بغیر استعمال کیا گیا ہو لیکن یہ مرجوح احتمال ہے۔ صحیح بات پہلی ہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4258 سے ماخوذ ہے۔