حدیث نمبر: 1769
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق هُوَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ : قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ " أَهْدَى دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ فَلَبِسَهُمَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَالَ إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَامِرٍ وَجُبَّةً فَلَبِسَهُمَا حَتَّى تَخَرَّقَا لَا يَدْرِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَكِيٌّ هُمَا أَمْ لَا وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو إِسْحَاق اسْمُهُ سُلَيْمَانُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ هُوَ أَخُو أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` دحیہ کلبی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو موزے تحفہ بھیجے ، چنانچہ آپ نے انہیں پہنا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اسرائیل نے اپنی روایت میں کہا ہے ( جسے وہ بطریق «عن جابر» روایت کرتے ہیں ) : ایک جبہ بھی بھیجا ، آپ نے ان دونوں موزوں کو پہنا یہاں تک کہ وہ پھٹ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے تھے کہ وہ مذبوح جانور کی کھال کے ہیں یا غیر مذبوح ، ۳- ابواسحاق سبیعی کا نام سلیمان ہے ، ۴- حسن بن عیاش ابوبکر بن عیاش کے بھائی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1769
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: (حديث المغيرة) صحيح، (حديث عامر) ضعيف (حديث المغيرة) مختصر الشمائل (59) ، (حديث عامر) مختصر الشمائل (59) , شیخ زبیر علی زئی: (1769) إسناده ضعيف, حديث إسرائيل عن جابر عن عامر : ضعيف (جابر الجعفي ضعيف تقدم:206) وباقي الحديث صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف : 11516) (صحیح)»