حدیث نمبر: 1766
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسَ قَمِيصًا ، بَدَأَ بِمَيَامِنِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قمیص پہنتے تو داہنی طرف سے ( پہننا ) شروع کرتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : کئی لوگوں نے یہ حدیث بسند «شعبة عن أبي هريرة» موقوف روایت کی ہے ، شعبہ سے روایت کرنے والے عبدالصمد بن عبدالوارث کے علاوہ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اسے مرفوع طریقہ سے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1766
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (4330 / التحقيق الثانى)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف وأخرجہ النسائي في الکبریٰ) ، ( تحفة الأشراف : 12399) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4141 | سنن ابن ماجه: 402 | بلوغ المرام: 42

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4141 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جوتا پہننے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4141]
فوائد ومسائل:
ہر اچھے کام میں دائیں جانب کا خیال رکھنا ایک اسلامی ادب اور شعار ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4141 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 42 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´ہر اچھے کام کی ابتدا دائیں طرف سے`
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:‏‏‏‏إذا توضاتم فابداوا بميامنكم . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم وضو کرنے لگو تو اپنے دائیں جانب سے ابتداء کیا کرو . . . [بلوغ المرام/: 42]
فائدہ:
یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن معناً صحیح ہے جیسا کہ دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر اچھے کام کی ابتدا میں دایاں پہلو ہی پسند اور محبوب تھا۔ خود بھی اسی پر عمل پیرا رہے اور امت کو بھی حکم فرمایا کہ دائیں جانب سے ابتداء کرو۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 42 سے ماخوذ ہے۔