حدیث نمبر: 1762
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ : " كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمِيصُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي تُمَيْلَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ لباس قمیص تھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف عبدالمومن بن خالد کی روایت سے جانتے ہیں ، وہ اسے روایت کرنے میں منفرد ہیں ، وہ مروزی ہیں ، ۳- بعض لوگوں نے اس حدیث کو اس سند سے روایت کی ہے ، «عن أبي تميلة عن عبد المؤمن بن خالد عن عبد الله بن بريدة عن أمه عن أم سلمة» ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1762
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3575)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ اللباس 3 (4025) ، سنن ابن ماجہ/اللباس 8 (3575) ، ( تحفة الأشراف : 18169) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1763 | سنن ترمذي: 1764 | سنن ابي داود: 4025 | سنن ابن ماجه: 3575

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3575 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قمیص اور کرتا پہننے کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے (قمیص) سے بڑھ کر کوئی لباس محبوب اور پسندیدہ نہ تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3575]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ چادر کو سنبھالنا پڑتا ہے جب کہ قمیض پہن کر ہاتھوں کو زیادہ آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اور عربوں کی قمیض نیچے تک ہوتی ہے اس لیے اگر موٹے کپڑے کی بنی ہوئی ہو تو تہبند کے بغیر بھی ستر کے اعضاء چھپے رہتے ہیں۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3575 سے ماخوذ ہے۔