سنن ترمذي
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ خَاتَمِ الذَّهَبِ باب: مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1737
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وغير واحد ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ : " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ ، وَعَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، وَعَنْ لِبَاسِ الْمُعَصْفَرِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی ، «قسی» ( ایک ریشمی کپڑا ) کا لباس ، رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے اور «معصفر» ( کسم سے رنگے ہوئے زرد ) کپڑے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: سونا مردوں کے لیے حرام ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے، لہٰذا ممانعت مردوں کے لیے ہے، رکوع اور سجدہ میں اللہ کی تسبیح بیان کی جاتی ہے، اس میں قرآن پڑھنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننے کی حرمت کا بیان۔`
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، «قسی» (ایک ریشمی کپڑا) کا لباس، رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے اور «معصفر» (کسم سے رنگے ہوئے زرد) کپڑے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1737]
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، «قسی» (ایک ریشمی کپڑا) کا لباس، رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے اور «معصفر» (کسم سے رنگے ہوئے زرد) کپڑے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1737]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
سونا مردوں کے لیے حرام ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے، لہٰذا ممانعت مردوں کے لیے ہے، رکوع اور سجدہ میں اللہ کی تسبیح بیان کی جاتی ہے، اس میں قرآن پڑھنا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
1؎:
سونا مردوں کے لیے حرام ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے، لہٰذا ممانعت مردوں کے لیے ہے، رکوع اور سجدہ میں اللہ کی تسبیح بیان کی جاتی ہے، اس میں قرآن پڑھنا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1737 سے ماخوذ ہے۔