سنن ترمذي
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الصُّوفِ باب: اونی کپڑا پہننے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَ عَلَى مُوسَى يَوْمَ كَلَّمَهُ رَبُّهُ كِسَاءُ صُوفٍ ، وَجُبَّةُ صُوفٍ ، وَكُمَّةُ صُوفٍ ، وَسَرَاوِيلُ صُوفٍ ، وَكَانَتْ نَعْلَاهُ مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَيِّتٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، وَحُمَيْدٌ هُوَ ابْنُ عَلِيٍّ الْكُوفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْت مُحَمَّدًا ، يَقُولُ : حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَعْرَجُ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَحُمَيْدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ صَاحِبُ مُجَاهِدٍ ثِقَةٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَالْكُمَّةُ : الْقَلَنْسُوَةُ الصَّغِيرَةُ .´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس دن موسیٰ علیہ السلام سے ان کے رب نے گفتگو کی اس دن موسیٰ علیہ السلام کے بدن پر پرانی چادر ، اونی جبہ ، اونی ٹوپی ، اور اونی سراویل ( پائجامہ ) تھا اور ان کے جوتے مرے ہوئے گدھے کے چمڑے کے تھے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حمید اعرج کی روایت سے جانتے ہیں ، حمید سے مراد حمید بن علی کوفی ہیں ، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا کہ حمید بن علی اعرج منکرالحدیث ہیں اور حمید بن قیس اعرج مکی جو مجاہد کے شاگرد ہیں ، وہ ثقہ ہیں ، ۳- «کمہ» : چھوٹی ٹوپی کو کہتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس دن موسیٰ علیہ السلام سے ان کے رب نے گفتگو کی اس دن موسیٰ علیہ السلام کے بدن پر پرانی چادر، اونی جبہ، اونی ٹوپی، اور اونی سراویل (پائجامہ) تھا اور ان کے جوتے مرے ہوئے گدھے کے چمڑے کے تھے۔“ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1734]
نوٹ:
(سند میں حمید بن علی کوفی ضعیف ہیں)