حدیث نمبر: 1733
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ : " أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً مُلَبَّدًا وَإِزَارًا غَلِيظًا ، فَقَالَتْ : قُبِضَ رُوحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَيْنِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَحَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبردہ کہتے ہیں کہ` عائشہ رضی الله عنہا نے ہمارے سامنے ایک اونی چادر اور موٹا تہ بند نکالا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات انہی دونوں کپڑوں میں ہوئی ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں علی اور ابن مسعود رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا» اللہ مجھے مسکین کی زندگی عطا کر اور اسی حالت میں میری وفات ہو ، اللہ نے آپ کی یہ دعا قبول کی چنانچہ آپ کی وفات حدیث میں مذکور دو معمولی کپڑوں میں ہوئی، غور کا مقام ہے کہ آپ زہد کے کس مقام پر فائز تھے، اور دنیاوی مال و متاع سے کس قدر دور رہتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1733
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3551)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الخمس 5 (3108) ، واللباس 19 (5818) ، صحیح مسلم/اللباس 6 (2080) ، سنن ابی داود/ اللباس 8 (4036) ، سنن ابن ماجہ/اللباس 1 (3551) ، ( تحفة الأشراف : 17693) ، و مسند احمد (6/32، 131) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اونی کپڑا پہننے کا بیان۔`
ابوبردہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی الله عنہا نے ہمارے سامنے ایک اونی چادر اور موٹا تہ بند نکالا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات انہی دونوں کپڑوں میں ہوئی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1733]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
نبی اکرم ﷺ نے یہ دعاکی تھی کہ (اللّٰهُمَّ أحيِنِي مِسكِينًا وَّأَمِتنِي مِسكِينًا) (اللہ مجھے مسکین کی زندگی عطاکر اور اسی حالت میں میری وفات ہو) اللہ نے آپ کی یہ دعا قبول کی چنانچہ آپ کی وفات حدیث میں مذکور دومعمولی کپڑوں میں ہوئی، غور کا مقام ہے کہ آپ زہد کے کس مقام پر فائز تھے، اور دنیاوی مال ومتاع سے کس قدر دور رہتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1733 سے ماخوذ ہے۔