حدیث نمبر: 1732
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ الْحَسَنِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُمْ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَبَّرَ لِفَاطِمَةَ شِبْرًا مِنْ نِطَاقِهَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَرَوَى بَعْضُهُمْ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ رُخْصَةٌ لِلنِّسَاءِ فِي جَرِّ الْإِزَارِ ، لِأَنَّهُ يَكُونُ أَسْتَرَ لَهُنَّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کے «نطاق» کے لیے ایک بالشت کا اندازہ لگایا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- بعض لوگوں نے اسے «حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن عن أمه عن أم سلمة» کی سند سے روایت کی ہے ، ۲- اس حدیث میں عورتوں کے لیے تہ بند ( چادر ) گھسیٹنے کی اجازت ہے ، اس لیے کہ یہ ان کے لیے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی ایک بالشت کے برابر لٹکانے کی اجازت دی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1732
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3580)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، وانظر سنن ابی داود/ اللباس 40 (4117-4118) ، و ق /اللباس 13 (3508) ، ( تحفة الأشراف : 8257) (صحیح) (ابوداود اور ابن ماجہ کی مذکورہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں ’’ علی بن زید بن جدعان ‘‘ ضعیف راوی ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4117 | سنن ابن ماجه: 3580 | سنن نسائي: 5339 | سنن نسائي: 5341

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عورتوں کے دامن لٹکانے کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کے «نطاق» کے لیے ایک بالشت کا اندازہ لگایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1732]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: یعنی ایک بالشت کے برابرلٹکانے کی اجازت دی۔

نوٹ:
(ابوداؤد اور ابن ماجہ کی مذکورہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں ’’علی بن زید بن جدعان‘‘ ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1732 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4117 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عورت کے دامن لٹکانے کی مقدار کا بیان۔`
صفیہ بنت ابی عبید خبر دیتی ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ نے تہبند کا ذکر کیا عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عورت (کتنا دامن لٹکائے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک بالشت لٹکائے ام سلمہ نے کہا: تب تو ستر کھل جا یا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ ایک ہاتھ لٹکائے اس سے زیادہ نہ بڑھائے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4117]
فوائد ومسائل:
عورت کو گھر سے باہراپنے ٹخنے اور پاوں بھی پردے میں رکھنے کا حکم واجب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4117 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3580 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عورت کے کپڑے کا دامن (نچلا حصہ) کتنا لمبا ہو؟`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: عورت اپنے کپڑے کا دامن کتنا لٹکا سکتی ہے؟ فرمایا: ایک بالشت میں نے عرض کیا: اتنے میں تو پاؤں کھل جائے گا، تو فرمایا: ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3580]
اردو حاشہ:
فائده:
ایک بالشت یا ایک ہاتھ سے مراد ٹخنوں سے اس قدر نیچے تک ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں: خلاصہ یہ ہے کہ مرد کی دو حالتیں ہیں: مستحب حالت یہ ہے کہ تہبند آدھی پنڈلی تک اونچا رکھے۔
اور جائز حالت یہ ہے کہ ٹخنوں (سے اوپر)
تک رکھے۔
اسی طرح عورتوں کی بھی دو حالتیں ہیں۔
مستحب حالت یہ ہے کہ مردوں کی جائز حالت سے ایک بالشت زیادہ ہو۔
اور جائز حالت ایک ہاتھ یعنی مردوں کی جائز حالت سے دو بالشت زیادہ۔ (فتح الباری: 10/ 320)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3580 سے ماخوذ ہے۔