حدیث نمبر: 1723
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ : " قَدِمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : فَبَكَى ، وَقَالَ : إِنَّكَ لَشَبِيهٌ بِسَعْدٍ ، وَإِنَّ سَعْدًا كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ ، وَإِنَّهُ بُعِثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٌ فِيهَا الذَّهَبُ ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَامَ أَوْ قَعَدَ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَهَا ، فَقَالُوا : مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ ثَوْبًا قَطُّ ، فَقَالَ : " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ ؟ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا تَرَوْنَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ` انس بن مالک رضی الله عنہ ( ہمارے پاس ) آئے تو میں ان کے پاس گیا ، انہوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ رضی الله عنہ ہوں ، انس رضی الله عنہ رو پڑے اور بولے : تم سعد کی شکل کے ہو ، سعد بڑے دراز قد اور لمبے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا گیا جس میں زری کا کام کیا ہوا تھا ۱؎ آپ اسے پہن کر منبر پر چڑھے ، کھڑے ہوئے یا بیٹھے تو لوگ اسے چھو کر کہنے لگے : ہم نے آج کی طرح کبھی کوئی کپڑا نہیں دیکھا ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو ؟ جنت میں سعد کے رومال اس سے کہیں بہتر ہیں جو تم دیکھ رہے ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یہ جبہ اکیدردومہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور ہدیہ بھیجا تھا، یہ ریشم کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1723
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الہبة 28 (2615) ، وبدء الخلق 8 (3248) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 24 (2469) ، سنن النسائی/الزینة 88 (5304) ، ( تحفة الأشراف : 1648) ، و مسند احمد (3/111، 121-122، 207، 209، 229، 238، 251، 277) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2615 | صحيح البخاري: 3248 | صحيح مسلم: 2469 | سنن نسائي: 5304

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس ضمن میں ایک اور باب۔`
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی الله عنہ (ہمارے پاس) آئے تو میں ان کے پاس گیا، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ رضی الله عنہ ہوں، انس رضی الله عنہ رو پڑے اور بولے: تم سعد کی شکل کے ہو، سعد بڑے دراز قد اور لمبے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا گیا جس میں زری کا کام کیا ہوا تھا ۱؎ آپ اسے پہن کر منبر پر چڑھے، کھڑے ہوئے یا بیٹھے تو لوگ اسے چھو کر کہنے لگے: ہم نے آج کی طرح کبھی کوئی کپڑا نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: " کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو؟ جنت میں سعد کے رومال ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1723]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: یہ جبہ اکیدردومہ نے نبی اکرم ﷺکے لیے بطور ہدیہ بھیجاتھا، یہ ریشم کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1723 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2469 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشمی جبہ کاتحفہ پیش کیاگیا اور آپ ریشم(پہننے) سے منع فرماتے تھے تو لوگ اس سے تعجب کرنے لگے،چنانچہ آپ نے فرمایا،"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے!جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تولیے بھی اس سے زیادہ اچھے ہیں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6351]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
مناديل: مندیل کی جمع ہے جوندل میل کچیل سے ماخوذ ہے معنی تولیہ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6351 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5304 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سونے کے کام والے دیبا نامی ریشمی کپڑا پہننے کا بیان۔`
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب مدینے آئے، تو میں ان کے پاس گیا، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں، وہ بولے: سعد تو بہت عظیم شخص تھے اور لوگوں میں سب سے لمبے تھے، پھر وہ رو پڑے اور بہت روئے، پھر بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دومۃ کے بادشاہ اکیدر کے پاس ایک وفد بھیجا، تو اس نے آپ کے پاس دیبا کا ایک جبہ بھیجا، جس میں سونے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5304]
اردو حاشہ: (1) اما م نسائی رحمہ اللہ کا ترجمۃ الباب سے مقصد یہ مسئلہ بیان کرنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم کا ایسا جوڑا زیب تن کیا تھا جس کی بنائی سونے کے تاروں سے کی گئی تھی۔ امام صاحب کا مقصد یہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں مذکور الفاظ فلبسه رسول الله ﷺ شاذ ہیں۔ یہ حدیث صحیح بخاری میں بھی مذکور ہے لیکن اس میں یہ الفاظ (جنہیں شاذ کہا گیا ہے) نہیں ہیں بہر حال یہ امام نسائی رحمہ اللہ کا اپنا رجحان ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اگلا باب اس کے نسخ کے متعلق قائم کیا ہے۔ واللہ أعلم۔ تفصیل کےلیے دیکھیے: (ذخیرة العقبی شرح سنن النسائي:39/ 28، 29)
(2) اس حدیث مبارکہ سے قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور جنت میں اعلیٰ مقام نیز اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی قدرو منزلت معلوم ہوتی ہے کہ ان کے "اونی کپڑے" دنیا کے قیمتی اور بہترین ریشم سے بہتر ہیں کیونکہ تولیہ یا ہاتھ صاف کرنے والا رومال دیگر کپڑوں اور لباس کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت اورگھٹیا ہوتا ہے جب وہ اس قدر قیمتی ہے تو ان کے استعمال کے دوسرے کپڑے اور لباس کس قدر بہتر اور قیمتی ہوں گے۔
(3) یہ حدیث مبارکہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ مشرک کا ہدیہ قبول کیا جا سکتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں مذکورہ حدیث پر ان الفاظ سے عنوان قائم کیا ہے: "قبول الهدية من المشركين" (صحیح البخاري: الهبة وفضلها والتحريض عليها، باب28)
(4) "تشریف لائے" حضرت انس رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے انصاری تھے مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں وہ بصرہ چلے گئے۔ کبھی کبھی اپنی جنم بھومی "مدینہ منورہ" میں تشریف لاتے تھے۔
(5) "لمبے قد کے" ان کے پوتے واقد بھی لمبے قد کاٹھ کے تھے اس لیے ان کو دیکھ کر یہ ذکر فرمایا۔
(6) "رومال" عربی میں لفظ مندیل استعمال ہوا ہے۔ مندیل چھوٹے رومال کو کہتے ہیں جو گردوغبار صاف کرنے کےلیے ہاتھ میں رکھا جاتا ہے۔ عموماً یہ باقی لباس سے کم تر ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5304 سے ماخوذ ہے۔