سنن ترمذي
كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي طَاعَةِ الإِمَامِ باب: امام کی اطاعت کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ الْأَحْمَسِيَّةِ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ قَدِ الْتَفَعَ بِهِ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ ، قَالَتْ : فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى عَضَلَةِ عَضُدِهِ تَرْتَجُّ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا اللَّهَ ، وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ ، فَاسْمَعُوا لَهُ ، وَأَطِيعُوا مَا أَقَامَ لَكُمْ كِتَابَ اللَّهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أُمِّ حُصَيْنٍ .´ام حصین احمسیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے سنا ، آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جسے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹے ہوئے تھے ، ( گویا میں ) آپ کے بازو کا پھڑکتا ہوا گوشت دیکھ رہی ہوں ، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا : ” لوگو ! اللہ سے ڈرو ، اور اگر کان کٹا ہوا حبشی غلام بھی تمہارا حاکم بنا دیا جائے تو اس کی بات مانو اور اس کی اطاعت کرو ، جب تک وہ تمہارے لیے کتاب اللہ کو قائم کرے “ ( یعنی کتاب اللہ کے موافق حکم دے ) ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- ( یہ حدیث ) دوسری سندوں سے بھی ام حصین سے مروی ہے ، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور عرباض بن ساریہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام حصین احمسیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جسے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹے ہوئے تھے، (گویا میں) آپ کے بازو کا پھڑکتا ہوا گوشت دیکھ رہی ہوں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ” لوگو! اللہ سے ڈرو، اور اگر کان کٹا ہوا حبشی غلام بھی تمہارا حاکم بنا دیا جائے تو اس کی بات مانو اور اس کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہارے لیے کتاب اللہ کو قائم کرے “ (یعنی کتاب اللہ کے موافق حکم دے) ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1706]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں امیر کی اطاعت اور اس کی ماتحتی میں رہنے کی ترغیب دی جارہی ہے، اور ہرایسے عمل سے دوررہنے کاحکم دیا جا رہا ہے جس سے فتنہ کے سر اٹھانے اور مسلمانوں کی اجتماعیت میں انتشار پید ہونے کا اندیشہ ہو۔
حج میں گرمی سے بچنے کے لیے چھتری استعمال کرنا، یا سایہ بان کے نیچے بیٹھنا درست ہے۔
احرام کی حالت میں سر پر کپڑا وغیرہ رکھنا جائز نہیں ہے۔
2۔
اگرحاکم اعلیٰ کی طرف سے کسی ایسے انسان کو کسی علاقہ یا محکمہ کا سربراہ بنا دیا جائے جو دنیوی اعتبار سے کسی بلند وبالا خاندان کا نہ ہو یا شخصی وجاہت اور حسن وجمال سے محروم ہو لیکن کام قرآن وسنت کی روشنی میں کرتا ہو تو اس کی اطاعت وفرمانبرداری فرض ہے، اس کے خلاف بغاوت کرنا جائز نہیں ہے۔
اگر اس کے احکام اور اعمال دین کے منافی ہیں تو پھر اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
یحییٰ بن حصین کی دادی (ام الحصٰن الاحمسیۃ رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے ہوئے سنا: اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنا دیا جائے جو تمہیں کتاب اللہ کے مطابق چلائے تو تم اس کی سنو اور اطاعت کرو۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4197]
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام وامیر بننے کے لیے حریت اور آزادی شرط نہیں ہے کہ صرف آزاد شخص ہی امام اور امیر بن سکے۔ آقا و مولا کی اجازت سے غلام بھی امام وامیر بن سکتا ہے۔ اس صورت میں غلام، صرف غلام ہی نہیں بلکہ امام برحق بھی ہوگا، لہٰذا اس کی اطاعت بھی واجب ہوگی۔
(3) یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ کوئی بھی امام و امیر یا خلیفۃ المسلمین صرف اس صورت میں واجب الطاعۃ ہے جب تک وہ کتاب وسنت کے مطابق احکام دے، لوگوں کو شریعت اسلامیہ کے مطابق چلائے اور خود بھی پابند شریعت بن کررہے، ہاں! اگر کوئی امیر کتاب وسنت کے مخالف محض اپنی خواہش نفس کی اطاعت کرانا چاہے تو اس صورت میں وہ قطعاََ اطاعت کا حق دار نہیں کیونکہ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: [لا طاعةَ لِمخلوقٍ في معصيةِ اللَّهِ إنَّما الطّاعةُ في المعروفِ ] (مسند أحمد:94/1)
(4) نیز اس حدیث مبارکہ سے تقلید شخصی کا مکمل طور پر رد ہوتا ہے۔ غیر مشروط اطاعت صرف اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کا حق ہے جو کسی دوسرے کو نہیں دیا جا سکتا۔