سنن ترمذي
كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ تُنْزَى الْحُمُرُ عَلَى الْخَيْلِ باب: گھوڑی پر گدھے چھوڑنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو جَهْضَمٍ مُوسَى بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مَأْمُورًا ، مَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلَّا بِثَلَاثٍ : " أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ ، وَأَنْ لَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ ، فَقَالَ : عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وسَمِعْت مُحَمَّدًا ، يَقُولُ : حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَوَهِمَ فِيهِ الثَّوْرِيُّ ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ .´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مامور بندے تھے ، آپ نے ہم کو دوسروں کی بنسبت تین چیزوں کا خصوصی حکم دیا : ہم کو حکم دیا ۱؎ کہ پوری طرح وضو کریں ، صدقہ نہ کھائیں اور گھوڑی پر گدھا نہ چھوڑیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- سفیان ثوری نے ابوجہضم سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث کی سند یوں بیان کی ، «عن عبيد الله بن عبد الله بن عباس عن ابن عباس» ، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ثوری کی حدیث غیر محفوظ ہے ، اس میں ثوری سے وہم ہوا ہے ، صحیح وہ روایت ہے جسے اسماعیل بن علیہ اور عبدالوارث بن سعید نے ابوجہضم سے ، ابوجہضم عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس سے ، اور عبیداللہ نے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کی ہے ، ۴- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مامور بندے تھے، آپ نے ہم کو دوسروں کی بنسبت تین چیزوں کا خصوصی حکم دیا: ہم کو حکم دیا ۱؎ کہ پوری طرح وضو کریں، صدقہ نہ کھائیں اور گھوڑی پر گدھا نہ چھوڑیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1701]
وضاحت: 1؎: یہ حکم ایجابی تھا، ورنہ اتمام وضوء سب کے لیے مستحب ہے، اور گدھے کو گھوڑی پر چھوڑنا سب کے لیے مکروہ ہے۔
عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کی بہ نسبت ہمیں (یعنی بنی ہاشم کو) کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا سوائے تین چیزوں کے ۱؎ (پہلی یہ کہ) آپ نے حکم دیا کہ ہم کامل وضو کریں، (دوسری یہ کہ) ہم صدقہ نہ کھائیں، اور (تیسری یہ کہ) ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر نہ چڑھائیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 141]
➋ ’’گدھوں کی گھوڑیوں سے جفتی نہ کرائیں۔“ کیونکہ گھوڑا نسل کے اعتبار سے اعلیٰ اور مبارک جانور ہے، اس لیے گھوڑی سے خچر حاصل کرنا اعلیٰ اور عمدہ پر ادنیٰ اور کم تر کو ترجیح دینا ہے، اس لیے پسندیدہ نہیں ہے، تاہم خچر خریدنا اور اس پر سواری کرنا ممنوع نہیں ہے کیونکہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خچر کا تحفہ ملا تو آپ نے قبول فرمایا اور بارہا اس پر سواری بھی کی، نیز اللہ تعالیٰ نے سورۂ نحل آیت: 8 میں خچروں کی سواری اور ان کے باعث زینت ہونے کی اپنی نعمت شمار کیا ہے۔ بعض علماء اس کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے بطور سواری استعمال کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں ایک درجہ کراہت تو ہے مگر اس کی افزائش کا مروجہ طریقہ جائز ہے اور حدیث میں نہی حرمت کے لیے نہیں بلکہ تنزیہ کے لیے ہے، لیکن دلائل کی رو سے بہتر اور راجح موقف یہ ہے کہ اس طریقے سے اس کا حصول محل نظر ہے، البتہ خچر سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جیسا کہ فرمان الٰہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے، نیز نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ﴿إنما یفعل ذلک الذین لایعلمون﴾ [مسند احمد: 98/1، و سنن النسائي، الخیل، حدیث: 3601]
’’یہ کام بے علم لوگ کرتے ہیں۔“ سے ظاہر ہوتا ہے کہ باشعور اور اچھے لوگ یہ کام نہیں کرتے۔ گویا اس میں ایک لحاظ سے سرزنش کا پہلو ہے۔ بنابریں گدھے اور گھوڑی کی جفتی خود کرانا ممنوع ہے۔ ان میں یہ عمل ازخود ہو جائے یا کوئی جاہل لوگ کریں تو ہمارے لیے ان سے پیدا ہونے والے خچر سے فائدہ اٹھانا بالکل جائز ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [معالم السنن للخطابي: 21/2، و شرح معاني الآثار للطحاوي: 273/3، و ذخیرة العقبی، شرح سنن النسائي: 245-238/3]
عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا اس وقت ان سے کسی نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں کچھ پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا ہو سکتا ہے اپنے من ہی من میں پڑھتے رہے ہوں۔ انہوں نے کہا: تم پر پتھر لگیں گے یہ تو پہلے سے بھی خراب بات تم نے کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے تھے، اللہ نے آپ کو اپنا پیغام دے کر بھیجا، آپ نے اسے پہنچا دیا۔ قسم اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3611]
(2) ’’زخمی ہو‘‘ ناراضی سے فرمایا‘ حالانکہ اس شخص کی بات بجا تھی۔ آپ کے اونچا نہ پڑھنے سے یہ استدلال کیسے کیا جاسکتا ہےکہ آپ بلکل نہیں پڑھتے تھے؟ باقی ساری نماز بھی تو آہستہ ہی پڑھی جاتی ہے۔ تو کیا ساری نماز میں خاموش رہتے تھے؟ اس بات کے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی قائل نہیں تھے۔ درحقیقت یہ ان کی غلطی ہے۔ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُ وَأَرْضَاہُ۔
(3) ”تین چیزیں“ مگر یہ تین چیزیں بھی اہل بیت سے خاص نہیں۔ وضـو اچھی طرح کرنا سب کے لیے ضروری ہے۔ صدقہ بھی ہر مال دار پر حرام ہے تیسرا کام بھی ہرامتی کے لیے منع ہے‘ البتہ ”معززین“ کے لیے زیادہ سختی ہے۔ وہ اہل بیت ہوں یا اہل علم۔ واللہ أعلم۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کامل وضو کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 426]
اسباغ کی وضاحت کے لیےحدیث 407 کا فائدہ نمبر 1 ملاحظہ فرمائیں۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے یا نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 809]
ظہر اور عصر میں قرأت کے مسئلہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات مختلف ہیں، کسی میں انکار ہے اور کسی میں تردد اور جبکہ کچھ میں اثبات بھی مروی ہے، شاید انہیں پہلے علم نہ تھا، پھر بعد میں دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے علم ہوا، بہرحال صحیح روایت میں ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرأت فرمایا کرتے تھے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري، حديث 746]
➋ اہل بیت کو کسی خاص حکم اور وصیت سے مخصوص نہیں کیا گیا۔ مذکورہ مسائل محض تاکید مذید کے معنی میں ہیں۔ صرف صدقہ کے نہ کھانے میں انہیں انفرادیت ہے۔
➌ گدھے اور گھوڑی کی جفتی ہمیں خود کرانا ممنوع ہے۔ ان میں یہ عمل از خود ہو جائے یا کوئی جاہل لوگ کریں تو ہمیں ان سے پیدا ہونے والے خچر سے فائدہ اٹھانا بالکل جائز ہے۔
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات سے، جب تک وہ انہیں عملی جامہ نہ پہنا لیں یا ان کے متعلق بات نہ کر لیں، درگزر فرمایا ہے۔““ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب العلم/حدیث: 22]