سنن ترمذي
كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الرِّهَانِ وَالسَّبَقِ باب: گھڑ دوڑ میں شرط لگانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجْرَى الْمُضَمَّرَ مِنَ الْخَيْلِ مِنْ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ وَبَيْنَهُمَا سِتَّةُ أَمْيَالٍ ، وَمَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنَ الْخَيْلِ مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَبَيْنَهُمَا مِيلٌ ، وَكُنْتُ فِيمَنْ أَجْرَى ، فَوَثَبَ بِي فَرَسِي جِدَارًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجَابِرٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَأَنَسٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «تضمیر» کیے ہوئے گھوڑوں کی مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک دوڑ کرائی ، ان دونوں کے درمیان چھ میل کا فاصلہ ہے ، اور جو «تضمیر» کیے ہوئے نہیں تھے ان کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک گھڑ دوڑ کرائی ، ان دونوں کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہے ، گھڑ دوڑ کے مقابلہ میں میں بھی شامل تھا ، چنانچہ میرا گھوڑا مجھے لے کر ایک دیوار کود گیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ثوری کی روایت سے یہ حدیث صحیح حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ ، جابر ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «تضمیر» کیے ہوئے گھوڑوں کی مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان چھ میل کا فاصلہ ہے، اور جو «تضمیر» کیے ہوئے نہیں تھے ان کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک گھڑ دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہے، گھڑ دوڑ کے مقابلہ میں میں بھی شامل تھا، چنانچہ میرا گھوڑا مجھے لے کر ایک دیوار کود گیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1699]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے جہاد کی تیاری کے لیے گھڑدوڑ، تیر اندازی، اور نیزہ بازی کا جواز ثابت ہوتا ہے، نبی اکرمﷺ کے دور میں عموماً یہی چیزیں جنگ میں کام آتی تھیں، حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے ضرورت ہے کہ آج کے دور میں راکٹ، میزائل، ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں چلانے کا تجربہ حاصل کیاجائے، ساتھ ہی بندوق توپ اور ہرقسم کے جدید جنگی آلات کی تربیت حاصل کی جائے۔
اضمار اس کو کہتے ہیں کہ پہلے گھوڑے کو خوب کھلا پلا کر موٹا کیا جائے پھر اس کا دانہ چارہ کم کردیا جائے اور کوٹھڑی میں جھول ڈال کر بند رہنے دیں تاکہ پسینہ خوب کرے اور اس کا گوشت کم ہو جائے اور شرط میں دوڑنے کے لائق ہو جائے۔
گھوڑ دوڑ کے متعلق حافظ صاحب فرماتے ہیں: وقد أجمع العلماء علی جواز المسابقة بغیر عوض لکن قصرھا مالك والشافعي علی الخف والحافر والنصل وخصه بعض العلماء بالخیل وأجازہ عطاء في کل شيئ الخ (فتح الباري)
یعنی علمائے اسلام نے دوڑ کرانے کے جواز پر اتفاق کیا ہے جس میں بطور شرط کوئی معاوضہ مقرر نہ کیا گیا ہو لیکن امام شافعی اور امام مالک نے اس دوڑ کو اونٹ اور گھوڑے اور تیر اندازی کے ساتھ خاص کیا ہے اور بعض علماء نے اسے صرف گھوڑے کے ساتھ خاص کیا ہے اور عطاء نے اس مسابقت کو ہر چیز میں جائز رکھا ہے۔
ایک روایت میں ہے لا سبقَ إلافی خف أو حافر أو نصل۔
یعنی آگے بڑھنے کی شرط تین چیزوں میں درست ہے‘ اونٹ اور گھوڑے اور تیر اندازی میں اور ایک روایت میں یوں ہے من أدخل فرسا بین فرسین فإن کان یؤمن أن یسبق فلا خبر فیه (لغات الحدیث) (حرف س‘ص: 30)
جس شخص نے ایک گھوڑا شرط کے دو گھوڑوں میں شریک کیا اگر اس کو یہ یقین ہے کہ یہ گھوڑا ان دونوں سے آگے بڑھ جائے گا تب تو بہتر نہیں اگر یہ یقین نہیں تو شرط جائز ہے۔
اس تیسرے شخص کو محلل کہتے ہیں یعنی شرط کو حلال کردینے والا مزید تفصیل کے لئے دیکھو (لغات الحدیث‘ حرف س ‘ صفحہ 30)
1۔
گھوڑے کو سخت جان اور چالاک بنانے کو تضمیر کہا جا تا ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ اسے چند روز تک خوب کھلایا پلایا جائے۔
جب وہ موٹا تازہ ہو جائے تو اس کا دن بدن چارہ کم کر کے اسے دبلا پتلا کیا جائے۔
ایسا گھوڑا بہت پھر تیلا اور تیز دوڑنے والا ہوتا ہے جتنے وقت میں عام گھوڑا ایک میل سفر طے کرتا ہے تیار شدہ گھوڑا پانچ چھ میل سفر طے کر لیتا ہے۔
زمانہ جاہلیت میں لوگ ایسا کیا کرتے تھے۔
اسلام نے اسے برقراررکھا۔
2۔
جنگی مشقوں کے لیےگھوڑوں میں دوڑ لگانا جائز ہے البتہ اس میں شرط لگانا حرام ہے۔
ہمارے ہاں جو ریس کلب میں گھوڑ دوڑ ہوتی ہے اس میں جوا بھی ہوتا ہے۔
اس کا جہاد اور جنگی مشقوں سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا ریس کی گھوڑدوڑ میں شرکت کرنا قطعاً حرام ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ شرح تراجم بخاری میں فرماتے ہیں کہ تمام مساجد درحقیقت اللہ کی ملکیت ہیں کسی اور کی نہیں اس لیے کوئی شخص وہم کر سکتا ہے کسی انسان کی طرف ان کی نسبت کرنا صحیح نہیں۔
مصنف نے اس وہم کو دور کرنے کی غرض سے اس بات کو ثابت کیا ہےکہ مسجد کی نسبت کسی شخص یا قبیلے کی طرف جائز ہے اور ایسا کسی تعلق کی بنا پر ہو سکتا ہے مثلاً بنانے والے یا متولی یا قرب و جوار کے رہنے والے کی طرف اس کی نسبت کر دی جائے۔
جیسا کہ حدیث میں بنو زریق کی طرف نسبت کی گئی ہے۔
2۔
امام ابن ابی شیبہ ؒ نے بیان کیا ہے۔
حضرت امام ابراہیم نخعی ؒ کسی مسجد کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرنا ناپسند کرتے تھے، اس لیے کہ مسجدیں صرف اللہ کے لیے ہیں، جبکہ امام بخاری ؒ نے اس عنوان سے ثابت کیا ہے کہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
جمہور علماء بھی اس کی تائید کرتے ہیں اور ایسی مساجد میں جس نسبت کا بیان ہے، وہ تمیز کے لیے ہے، ملکیت بتانے کے لیے نہیں۔
(فتح الباري: 667/1)
3۔
اس زمانے میں گھوڑوں کو جہاد کے لیے اس طرح تیار کیا جاتا تھا کہ پہلے انھیں خوب کھلا پلا کر موٹا کیا جاتا، پھر انھیں بھوکا رکھا جاتا اور گھروں میں ان پر جھول ڈال دیے جاتے تاکہ پسینہ آنے کے بعد ان کی چربی پگھل کر جز و بدن بن جائے۔
یہ عمل چالیس دن کرنےسے گھوڑا تیز رو ہو جاتا اور اس کا سانس بھی بڑھ جاتا تھا، ان کی دوڑ کے لیے زیادہ فاصلہ رکھا گیا، جبکہ غیر تیار شدہ گھوڑوں کے مقابلے کے لیے فاصلہ کم رکھا گیا تھا۔
بنو زریق انصار مدینہ کے مشہور قبیلے خزورج کی ایک شاخ تھی۔
واضح رہے کہ دوڑ کا یہ مقابلہ جہادی مشقوں کا ایک حصہ تھا، اس کے برعکس موجودہ دور میں ریس کے، میدانوں میں جو دوڑ کرائی جاتی ہے جن کی ہار جیت کا سلسلہ جوئے بازی پر ہوتا ہے ایسی دوڑ میں شرکت کرنا مسلمان کے لیے جائز نہیں۔
اس حدیث سے متعلقہ دیگر مسائل کتاب الجهاد حدیث 2868 کے تحت بیان ہوں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
1۔
گھوڑوں کے تیار شدہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انھیں کچھ مدت کے لیے خوب چارہ کھلایا جاتا، پھر ان پر جل وغیرہ ڈال کر ان کا چارہ آہستہ آہستہ کم کیا جاتا تاکہ ان کا موٹا پن ختم ہوجائے اور ان میں مضبوطی اور چستی آ جائے۔
اس قسم کے گھوڑے بہت دوڑتے ہیں، اس لیے ان کے دوڑنے کی مسافت زیادہ رکھی جاتی اور غیر تیار شدہ گھوڑوں کی مسافت کم ہوتی تھی۔
2۔
(حَفيَاء)
ایک مقام ہے جو ثنیۃ الوداع سے پانچ چھ میل پر واقع ہے اور ثنیۃ الوداع ایک گھاٹی ہے جہاں تک لوگ اپنے مہمانوں کو الوداع کہنے کے لیے جاتے تھے۔
مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک کا میدان بھی تاریخی عظمت کا حامل ہے کیونکہ عہدرسالت میں وہاں گھوڑوں کی دوڑ کرائی جاتی تھی تاکہ وہ جہاد میں کام آئیں۔
«. . . عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ وَكَانَ أَمَدُهَا مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ . . .»
”. . . عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی تھی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا اور دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق رکھی تھی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس میں شرکت کی تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ: 2869]
باب اور حدیث میں مناسبت: مذکورہ باب اور حدیث میں مناسبت مشکل ہے، کیوں کہ باب میں اضمار شدہ گھوڑوں کا ذکر مشروط ہے اور حدیث میں غیر اضمار گھوڑوں کا ذکر ہے۔ اس کا جواب اور تطبیق یہ ہو گی کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی عادت ہے کہ حدیث کا ایک لفظ لا کر دوسرے لفظ کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں، اس حدیث میں دوسرا لفظ یہ ہے کہ جن گھوڑوں کا اضمار ہوا تھا آپ نے ان کی شرط کرائی، حفیاءسے ثینہ تک۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ سنت تو یہ ہے کہ مقابلہ میں وہ گھوڑے مقدم کیے جائیں جن کو دبلا کیا گیا ہو، لیکن اگر ان گھوڑوں کا مقابلہ کروایا جائے جن کا اضمار نہیں کیا گیا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
«اشارة إلى أن السنة فى المسابقة أن يتقدم اضمار الخيل، وان كانت التى لا تضمر لا تمتنع المسابقة عليها.» [فتح الباري، ج 6، ص: 89]
علامہ عینی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: «أي هذا باب فى بيان اضمار الخيل لأجل السبق، هل هو شرط أم لا؟» [عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 14، ص: 159]
یعنی یہ باب مقابلہ کی غرض سے گھوڑے کے اضمار کے بیان میں ہے (مقابلے میں شریک) گھوڑے کا اضمار کرنا شرط ہے یا نہیں۔ لہذا اس بات کا جواب حدیث کے باب میں مذکور ہے کہ مقابلے کے گھوڑوں کے لیے اضمار شرط نہیں، اس کے بغیر بھی مقابلہ کروایا جا سکتا ہے۔ [المتواري على أبواب البخاري، ص: 160]
فائدہ: (اضمار کے معنی و مطلب): اضمار خواہ باب افعال سے ہو یا تفعیل سے اس کے معنی گھوڑے کو دبلا بنانے اور چھریرا بنانے کے ہیں۔ لہذا اسی لیے کہا جاتا ہے: «أضمر الفرس وضمره.» [مصباح اللغات، ص: 499، مادة ’ضمر‘ - المعجم الوسيط، ج 1، ص: 543، مادة ’ضمر‘]
باب میں تو اضمار شدہ گھوڑوں کی شرط مذکور ہے اور حدیث میں ان گھوڑوں کا ذکر ہے جن کا اضمار نہیں ہوا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ حدیث کا ایک لفظ لا کر اس کے دوسرے لفظ کی طرف اشارہ کردیتے ہیں‘ اس حدیث میں دوسرا لفظ ہے کہ جن گھوڑوں کا اضمار ہوا تھا آپ نے ان کی شرط کرائی‘ حفیاء سے ثنیۃ تک جیسے اوپر گزرا۔
حدیث میں ان گھوڑوں کی دوڑ کا ذکر ہے جو تیار شدہ نہیں تھے جبکہ عنوان اس کے برعکس ہے۔
یعنی اس میں تیارشدہ گھوڑوں کا ذکر ہے۔
دراصل امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ عنوان میں ایک لفظ لا کر حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں اگرچہ پیش کردہ حدیث میں وہ لفظ نہیں ہوتا۔
اگرچہ اس حدیث میں تیارشدہ گھوڑوں کا ذکر نہیں لیکن اس سے پہلے ایک حدیث میں ان کا ذکر تھا جس کی طرف امام بخاری ؒنے عنوان میں اشارہ کیا ہے ملاحظہ ہو۔
حدیث 2867۔
لہٰذا یہ حدیث عنوان کے خلاف نہیں۔
ایک متمدن حکومت کے لئے اس مشینی دور میں بھی گھوڑے کی بڑی اہمیت ہے۔
عربی نسل کے گھوڑے جو فوقیت رکھتے ہیں وہ محتاج تشریح نہیں۔
زمانۂ رسالت میں گھوڑوں کو سدھانے کے لیے یہ مقابلہ کی دوڑ ہوا کرتی تھی مگر آج کل ریس کی دوڑ جو آج عام طور پر شہروں میں کرائی جاتی ہے اور گھوڑوں پر بڑی بڑی رقوم بطور جوئے بازی کے لگائی جاتی ہیں یہ کھلا ہوا جوا ہے جو شرعاً قطعاً حرام ہے اور کسی پر مخفی نہیں۔
صد افسوس کہ عام مسلمانوں نے آج کل حلال و حرام کی تمیز ختم کردی ہے اور کتنے ہی مسلمان ان میں حصہ لیتے ہیں اور تباہ ہوتے ہیں۔
مختصر یہ کہ آج کل ریس کی گھوڑ دوڑ میں شرکت کرنا بالکل حرام ہے‘ اللہ ہر مسلمان کو اس تباہی سے بچائے۔
آمین
گھوڑ دوڑ کے مقابلے کے لیے چند چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے جن کی تفصیل یہ ہے۔
تیار شدہ اور غیر تیار گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ الگ الگ ہونا چاہیے۔
اس دوڑ کے مقابلے کے لیے حد مقرر ہو جیسا کہ اس حدیث میں مذکورہے۔
یہ دوڑ عظیم جنگی مقاصد کے لیے ہو محض تفریح طبع مقصود نہیں ہونی چاہیے۔
یہ دوڑ سوار سمیت ہو اس کے بغیر گھوڑے کے بدکنےکا اندیشہ ہوتا ہے۔
اس دوڑ پر دونوں طرف سے کوئی شرط وغیرہ طے نہ ہو بصورت دیگر یہ کھلا جوا ہو گا جو حرام ہے۔
واضح رہے کہ یہ مقابلہ گھوڑوں،اونٹوں، انسانوں، تیراندازی اور نیزہ بازی کا بھی ہو سکتا ہے۔
اضمرت: تضمیر یہ ہے کہ گھوڑے کو پہلے خوب کھلا پلا کر موٹا تازہ کرتے ہیں، پھر آہستہ آہستہ چارہ کم کرتے رہتے ہیں اور اس کو جھل پہنا کر ایک کوٹھڑی میں بند کر دیتے ہیں، تاکہ اس کو خوب پسینہ آ کر خشک ہو، اس کا گوشت کم ہو، تاکہ وہ زیادہ تیز دوڑ سکے۔
فوائد ومسائل: بلا معاوضہ یا بلا شرط گھوڑوں کو مقابلہ میں دوڑانا بالاتفاق جائز ہے، اس طرح اگر کسی ایک پارٹی یا حکومت کی طرف سے اول آنے والے یا تمام شرکاء کے لیے کوئی انعام مقرر ہو تو پھر بھی بالاتفاق جائز ہے، اس طرح اگر رقم ایک طرف سے مقرر ہو، تو پھر بھی بالاتفاق جائز ہے، لیکن اگر جانبین سے شرط ہو تو یہ جوا ہے، جو بالاتفاق ناجائز ہے، اس طرح اگر دو گھوڑے دوڑانے والے، اپنی اپنی طرف سے رقم مقرر کر لیں اور تیسرے گھوڑے کو جو آگے نکل جانے کا احتمال رکھتا ہو، آگے یا پیچھے رہنا یقینی نہ ہو، شریک کر لیں تو پھر بھی مالکیہ کے سوا باقی ائمہ کے نزدیک جائز ہے، لیکن مالکیہ کے نزدیک اس صورت میں بھی جائز نہیں ہے، (المغني، ج 12، ص 413)
۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کے درمیان ۱؎ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مقابلہ کرایا، اور غیر چھریرے بدن والے گھوڑوں، کے درمیان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقابلہ کرایا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مقابلہ کرنے والوں میں سے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2575]
1۔
گھوڑوں کو پالتے ہوئے پہلے انہیں کھلا پلا کر خوب موٹا تازہ کیا جاتا ہے۔
پھر ان کی خوراک میں بتدریج کمی کی جاتی ہے۔
اور کسی مکان میں بند رکھا جاتا ہے۔
اور ان پر کپڑا بھی ڈالتے ہیں۔
اس سے ان کو پسینہ آتا ہے حتی ٰ کہ ان کی زائد چربی وغیرہ ختم ہوجاتی ہے۔
اور اس طرح وہ بہت طاقت ور ہوجاتے ہیں۔
اور ان کا سانس بہت کم پھولتا ہے۔
اس عمل کو اضمار اور ایسے گھوڑوں کو مضمر کہتے ہیں۔
(پہلی میم پر پیش اور دوسری پر زبر کے ساتھ)
2۔
حدیث شریف میں ہے کہ حفیاء سے ثنیۃ الوداع کے درمیان پانچ چھ میل کا فاصلہ تھا۔
اور ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق کے درمیان ایک میل کا (صحیح البخاري، الجهاد والسیر، حدیث: 2868)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ دوڑ کا مقابلہ کرایا اور پانچویں برس میں داخل ہونے والے گھوڑوں کی منزل دور مقرر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2577]
1۔
امت میں جہاد کی روح باقی رکھئے اور جہاد کی تیاری کے لئے ان تربیتی امور کا اہتمام انتہائی ضروری اور واجب ہے۔
2۔
(قرح) یہ قارح کی جمع ہے۔
اس سے مراد ایسا گھوڑا ہے۔
جو پانچویں سال میں داخل ہو چکا ہو۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک) گھوڑوں کی دوڑ کرائی (کہ کون گھوڑا آگے نکلتا ہے) ۱؎ حفیاء سے روانہ کرتے (دوڑاتے) اور ثنیۃ الوداع آخری حد تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں میں بھی دوڑ کرائی جو محنت و مشقت کے عادی نہ تھے (جو سدھائے اور تربیت یافتہ نہ تھے) اور ان کے دوڑ کی حد ثنیۃ سے مسجد بنی زریق تک تھی ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3613]
(2) حَفْیَاء سے تثنیۃ الوداع تک چھ میل کا فاصلہ تھا اور تثنیۃ الوداع سے مسجد بنوزریق تک ایک میل۔ اتنا فرق ہوتا تھا تضمیر شدہ اور غیر تضمیر شدہ گھوڑوں میں۔
(3) بہترین افادیت کے حصول کے لیے جانوروں کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جاسکتا ہے جس میں ان کے لیے زیادہ مشقت اور تکلیف کا پہلو ہو جیسا کہ تضمیر کے لیے بھوکا رکھنا اور کمرے میں بند رکھنا وغیرہ۔
(4) مسجد کی نسبت مسجد بنانے والے کی طرف کی جا سکتی ہے اور یہ نسبت تمیز کے لیے ہوگی نہ کہ تملیک کے لیے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کو پھرتیلا بنایا، آپ پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کو مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک اور غیر پھرتیلے گھوڑوں کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک دوڑاتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2877]
فوائد و مسائل:
(1)
تضمیر سے مراد گھوڑوں کی ایک خاص انداز سے تربیت کرنا ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ کچھ عرصہ گھوڑے کو خوب کھلا پلا کر موٹا کرتے ہیں پھر اس کا چارہ کم کردیتے ہیں اور اسے ایک کوٹھڑی میں بند کردیتے ہیں۔
اسے وہاں پسینہ آتا ہے اور وہیں خشک ہوتا ہے۔
اور وہ بغیر تھکے زیادہ دوڑ سکتا ہے۔
۔
(2) (حفياء)
اور(ثنيةالوداع)
دو جگہوں کے نام ہیں جن کے درمیان تین میل کا فاصلہ ہے۔
(3) (ثنية الوداع)
سے مسجد بنی زریق تک ایک میل کا فاصلہ ہے۔
(4)
دور کے مقابلے میں مناسب فاصلے کا تعین ہونا چاہیے۔
(5)
بنی زریق ایک قبیلے کا نام ہے۔
وہ لوگ اس مسجد کے قریب رہتےاور اس میں نماز پڑھتے تھے لہٰذا مسجد کو کسی قبیلے یا گروہ کی طرف پہچان کے لیے منسوب کرنے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ سب مسجدیں اللہ ہی کی ہوتی ہیں۔
«. . . 216- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سابق بين الخيل التى قد أضمرت من الحفياء، وكان أمدها ثنية الوداع، سابق بين الخيل التى لم تضمر من الثنية إلى مسجد بني زريق، وأن عبد الله بن عمر كان ممن سابق بها. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گھوڑے جنہیں دبلا کر کے جہاد کے لئے تیار کیا گیا تھا، حفیاء (ایک مقام) سے ثنیة الوداع (دوسرے مقام) تک دوڑائے اور جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا وہ ثنیہ سے لے کر بنو زریق کی مسجد تک دوڑائے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اس مقابلے میں حصہ لیا تھا . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 562]
تفقه
➊ میدان جنگ کے لئے گھوڑے پالنا اور انھیں تیار کرنا سنت ہے۔
➋ جوئے وغیرہ کا خوف نہ ہو تو گھڑ دوڑ جائز ہے۔
➌ جہاد کی تیاری اور ٹریننگ ہمہ وقتی عمل ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار شدہ گھوڑوں کی حفیاء سے ثنیہ الوداع تک دوڑ کرائی اور جو گھوڑے تیار نہیں تھے ان کو ثنیۃ سے لے کر بنی زریق کی مسجد تک دوڑایا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی مسابقت میں شریک تھے۔ (بخاری و مسلم) اور بخاری میں اتنا اضافہ ہے کہ سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حفیاء سے ثنیۃ الوداع کا فاصلہ پانچ یا چھ میل ہے اور ثنیۃ سے مسجد بنی زریق تک کا فاصلہ ایک میل ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1130»
«أخرجه البخاري، الصلاة، باب هل يقال مسجد بني فلان، حديث:420، ومسلم، الإمارة، باب المسابقة بين الخيل وضميرها، حديث:1870.»
تشریح: 1. اس حدیث سے جہاد کی تیاری کے لیے گھوڑ دوڑ‘ تیر اندازی اور نیزہ بازی کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
اس دور میں یہی چیز عموماً جنگ میں کام آتی تھی۔
2. آج کے دور میں ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں چلانے کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔
تیر و نیزے کی جگہ بندوق‘ توپ اور جدید جنگی آلات کے استعمال کی تربیت حاصل کرنی چاہیے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے درمیان مسابقت کرائی اور نوجوان گھوڑوں کی حد میں فرق ملحوظ رکھا۔ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا اور ابن حبان سے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1131»
«أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في السبق، حديث:2577، وابن حبان (الإحسان): 7 /95، 96، حديث:4669.»
تشریح: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جانوروں کا بھی بہت خیال اور لحاظ رکھنا چاہیے۔
جتنی ہمت و طاقت کا جانور ہو، اس سے اسی کے مطابق خدمت لی جانی چاہیے۔
ہمت و طاقت سے زیادہ کام لینا درست نہیں۔