حدیث نمبر: 1691
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : " كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ : " كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اسی طرح اس حدیث کو ہمام ، قتادہ سے اور قتادہ ، انس سے روایت کرتے ہیں ، بعض لوگوں نے قتادہ کے واسطہ سے ، سعید بن ابی الحسن سے بھی روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1691
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (2326 - 2328) ، الإرواء (822) ، مختصر الشمائل (85 و 86)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الجہاد 71 (2583، 2584) ، سنن النسائی/الزینة 120 (5386) ، ( تحفة الأشراف : 1146) ، سنن الدارمی/السیر 21 (2501) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2583 | سنن ابي داود: 2584

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2583 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تلوار پر چاندی کا خول چڑھانے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی خول چاندی کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2583]
فوائد ومسائل:
مجاہد کے لئے جائز ہے۔
کہ اپنے اسلحے کو اس طرح سے مزین کرلے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2583 سے ماخوذ ہے۔