حدیث نمبر: 1683
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ : صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، وَزَعَمَ سَمُرَةُ أَنَّهُ صَنَعَ سَيْفَهُ عَلَى سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ حَنَفِيًّا " قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، فِي عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ الْكَاتِبِ ، وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن سیرین کہتے ہیں کہ` میں نے اپنی تلوار سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کی تلوار کی طرح بنائی ، اور سمرہ رضی الله عنہ کا خیال تھا کہ انہوں نے اپنی تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلوار کی طرح بنائی تھی اور آپ کی تلوار قبیلہ بنو حنیفہ کے طرز پر بنائی گئی تھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- یحییٰ بن سعید قطان نے عثمان بن سعد کاتب کے سلسلے میں کلام کیا ہے اور حافظہ میں انہیں ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف مختصر الشمائل المحمدية (88) , شیخ زبیر علی زئی: (1683) إسناده ضعيف, عثمان بن سعد الكاتب :ضعيف (تق:4471)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4632) (ضعیف) (اس کے راوی عثمان بن سعد الکاتب ضعیف ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی تلوار کا بیان۔`
ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے اپنی تلوار سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کی تلوار کی طرح بنائی، اور سمرہ رضی الله عنہ کا خیال تھا کہ انہوں نے اپنی تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلوار کی طرح بنائی تھی اور آپ کی تلوار قبیلہ بنو حنیفہ کے طرز پر بنائی گئی تھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1683]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(اس کے راوی عثمان بن سعد الکاتب ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1683 سے ماخوذ ہے۔