حدیث نمبر: 1681
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق وَهُوَ السَّالِحَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ لَاحِقَ بْنَ حُمَيْدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " كَانَتْ رَايَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَاءَ ، وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا کالا اور پرچم سفید تھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ابن عباس کی یہ روایت اس سند سے حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1681
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (2818)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الجہاد 20 (2818) ، ( تحفة الأشراف : 6542) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2818

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2818 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´(جنگ میں) بڑے اور چھوٹے جھنڈوں کے استعمال کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا جھنڈا کالا اور چھوٹا جھنڈا سفید تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2818]
اردو حاشہ:
  فوائد و مسائل:
(1)
سیاہ سے مراد خالص سیاہ نہیں بلکہ یہ جھنڈا دھاری دار کپڑے سے بنا ہوا اور چکور تھا۔ (جامع الترمذي، الجهاد، باب ما جاء في الرايات، حديث: 1680)

(2)
  جنگ میں مختلف دستوں کے جھنڈے مختلف رنگوں کے ہوسکتے ہیں۔

(3) (راية)
اور (لواء)
دونوں کے معنی جھنڈا ہیں۔
اس لحاظ سے ہم معنی الفاظ ہیں تاہم ایک قول کے مطابق (رايه)
بڑا جھنڈا ہوتا ہے اور (لواء)
چھوٹا جھنڈا (حاشہ سنن ابن ماجہ از محمد فواد عبد الباقی)
ہم نے دوسرے قول کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2818 سے ماخوذ ہے۔