سنن ترمذي
كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الرَّايَاتِ باب: جھنڈے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ : بَعَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَالْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، وَأَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ اسْمُهُ : إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَرَوَى عَنْهُ أَيْضًا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى .´یونس بن عبید مولیٰ محمد بن قاسم کہتے ہیں کہ` مجھ کو محمد بن قاسم نے براء بن عازب رضی الله عنہما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا ، براء نے کہا : ” آپ کا جھنڈا دھاری دار چوکور اور کالا تھا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف ابن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں ، ۳- اس باب میں علی ، حارث بن حسان اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۴- ابویعقوب ثقفی کا نام اسحاق بن ابراہیم ہے ، ان سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بھی روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یونس بن عبید مولیٰ محمد بن قاسم کہتے ہیں کہ مجھ کو محمد بن قاسم نے براء بن عازب رضی الله عنہما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا، براء نے کہا: ” آپ کا جھنڈا دھاری دار چوکور اور کالا تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1680]
وضاحت:
1؎:
بعض روایات سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے جھنڈے پر ’’لا إله إلا الله محمد رسول الله‘‘ لکھا ہواتھا۔
نوٹ:
(لیکن ’’چوکور‘‘ کا لفظ صحیح نہیں ہے، اس کے راوی ابویعقوب الثقفی ضعیف ہیں اور اس لفظ میں ان کا متابع یاشاہد نہیں ہے)
محمد بن قاسم کے غلام یونس بن عبید کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم نے مجھے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے متعلق پوچھوں کہ وہ کیسا تھا، تو انہوں نے کہا: وہ سیاہ چوکور دھاری دار اونی کپڑے کا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2591]
1۔
(اللواء) پرچم اعظم کو اور (الرایة) اس کے زیلی جھنڈوں کو کہتے ہیں۔
اور نبی کریم ﷺ کے لئے محشر میں (لواءالحمد) ہوگا۔
2۔
شیخ البانی کہتے ہیں۔
یہ روایت صحیح ہے، البتہ (مربعة) چوکور کا لفظ صحیح نہیں ہے۔