سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّوْمِ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالسَّمَرِ بَعْدَهَا باب: عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات کرنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، قَالَ أَحْمَدُ : وَحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ هُوَ الْمُهَلَّبِيُّ، وَإِسْمَاعِيل ابْنُ علية جميعا ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ هُوَ أَبُو الْمِنْهَالِ الرِّيَاحِيُّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي بَرْزَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ كَرِهَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ النَّوْمَ قَبْلَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، وَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ ، وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ : أَكْثَرُ الْأَحَادِيثِ عَلَى الْكَرَاهِيَةِ ، وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي النَّوْمِ قَبْلَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ فِي رَمَضَانَ ، وَسَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ هُوَ أَبُو الْمِنْهَالِ الرِّيَاحِيُّ .´ابوبرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوبرزہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عائشہ ، عبداللہ بن مسعود اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اور اکثر اہل علم نے نماز عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات کرنے کو مکروہ کہا ہے ، اور بعض نے اس کی اجازت دی ہے ، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں : اکثر حدیثیں کراہت پر دلالت کرنے والی ہیں ، اور بعض لوگوں نے رمضان میں عشاء سے پہلے سونے کی اجازت دی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوبرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 168]
1؎:
عشاء سے پہلے سونے کی کراہت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے عشا ء فوت ہو جانے کا خدشہ رہتا ہے، اور عشاء کے بعد بات کرنا اس لیے نا پسندیدہ ہے کہ اس سے سونے میں تاخیر ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کے لیے تہجد یا فجر کے لیے اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے امام نووی نے علمی مذاکرہ وغیرہ کو جو جائز اور مستحب بتایا ہے تو یہ اس بات کے ساتھ مشروط ہے کہ نمازِ فجر وقت پر ادا کی جائے، اگر رات کو تعلیم و تعلم یا وعظ و تذکیر میں اتنا وقت صرف کر دیا جائے کہ فجرکے وقت اٹھا نہ جا سکے تو یہ جواز و استحباب بھی محل نظر ہوگا۔
(دیکھئے اگلی حدیث اور اس کا حاشہ)
«. . . عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا . . .»
”. . . ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ النَّوْمِ قَبْلَ الْعِشَاءِ:: 568]
جب خطرہ ہو کہ عشاء کے پہلے سونے سے نماز باجماعت چلی جائے گی تو سونا جائز نہیں۔ ہر دو احادیث میں جو آگے آ رہی ہے، یہی تطبیق بہتر ہے۔
محدثین کرام نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عشاء سے پہلے سونے کی کراہت اسی صورت میں ہے جب نماز باجماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہو، ہر شخص کے لیے ہر حال میں عشاء سے پہلے سونا مکروہ نہیں۔
اگر کسی شخص کو اپنی نیند پر قابو ہے یا اس نے وقت پر بیدار ہو نے کا انتظام کررکھا ہے یا ایسی جگہ سورہاہے جہاں لوگ اسے خود ہی اٹھادیں گے یا کوئی شخص اضطراری طور پر سوجائے تو اس کے لیے عشاء سے قبل سونا مکروہ نہیں جیسا کہ آئندہ باب میں اس کے متعلق مزید وضاحت ہوگی۔
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے ۱؎ اور اس کے بعد بات کرنے ۲؎ سے منع فرماتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4849]
عشاء کی نماز سے پہلے سو جانے سے اندیشہ ہے کہ عشاء کی نماز یا جماعت فوت ہا جائےٓ اور ایسے ہی عشاء کی نماز کے بعد بے مقصد باتوں میں مشغول رہنے سے فجر کی نماز یا جماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
ہاں اگر کو ئی اہم مقصد ہو تو مشغول ہونا جائز ہے۔
جیسے کی طلباء کا رات گئے تک مطالعہ یا مذاکرہ کرنا یا دیگر اہم ذمہ داریوں کی ادائیگی کی غرض سے جاگنا جائز ہے، مگر شرط یہ ہے کہ فجر کی نماز ضائع نہ ہو۔