حدیث نمبر: 1674
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ ، وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : هُوَ ثِقَةٌ صَدُوقٌ ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ لَا أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اکیلا سوار شیطان ہے ، دو سوار بھی شیطان ہیں اور تین سوار قافلہ والے ہیں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اکیلا یا دو آدمیوں کا سفر کرنا صحیح نہیں ہے، تنہا ہونے میں کسی حادثہ کے وقت کوئی اس کا معاون و مددگار نہیں رہے گا، اسی طرح دو ہونے کی صورت میں ایک کو کسی ضرورت کے لیے جانا پڑا تو ایسی صورت میں پھر دونوں تنہا ہو جائیں گے، اور اگر ایک دوسرے کو وصیت کرنا چاہے تو اس کے لیے کوئی گواہ نہیں ہو گا جب کہ دو گواہ کی ضرورت پڑے گی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، الصحيحة (64) ، المشكاة (3910) ، صحيح أبي داود (2346)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الجہاد 86 (2607) ، ( تحفة الأشراف : 8740) ، وط/الاستئذان 14 (35) ، و مسند احمد (2/186، 214) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2607

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تنہا سفر کرنے کی کراہت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکیلا سوار شیطان ہے، دو سوار بھی شیطان ہیں اور تین سوار قافلہ والے ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1674]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اکیلا یا دو آدمیوں کا سفر کرنا صحیح نہیں ہے، تنہا ہونے میں کسی حادثہ کے وقت کوئی اس کا معاون و مدد گار نہیں رہے گا، اسی طرح دو ہونے کی صورت میں ایک کوکسی ضرورت کے لیے جانا پڑا تو ایسی صورت میں پھر دونوں تنہا ہو جائیں گے، اور اگر ایک دوسرے کو وصیت کرنا چاہے تو اس کے لیے کوئی گواہ نہیں ہوگا جب کہ دو گواہ کی ضرورت پڑے گی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1674 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2607 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تنہا سفر کرنے کی ممانعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سوار شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں، اور تین سوار قافلہ ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2607]
فوائد ومسائل:

انسان کا اکیلے سفر کرنا بعض اوقات انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔
بالفرض کوئی حادثہ پیش آجائے تو اسے سنبھالنے والا کوئی نہ ہوگا۔
اور نہ کوئی خبر ہی ملے گی۔
اس طرح دو افراد کا معاملہ بہت کمزور ہے۔
البتہ تین ہوں تو سب کو مکمل سہولت ہوگی۔
باجماعت نماز پڑھیں گے۔
ایک دوسرے کے انیس اور معاون ہوں گے۔


موجودہ حالات میں بسوں گاڑیوں اورجہازوں میں اگرچہ ایک کثیرتعداد بطور قافلہ کے سفرکرتی ہے۔
اور مذکور نہی سے انسان خارج ہوجاتا ہے۔
مگر انسان کو اپنے محب اور انیس رفیق سفر ہوں۔
تو بہت ہی افضل ہے۔
کیونکہ عام ہمراہی کئی طرح کے ہوتے ہیں۔
بالخصوص اب جبکہ شروفساد بہت بڑھ گیا ہے۔
اور دین وامانت میں کمی آتی جا رہی ہے۔


یہ حدیث تنہا سفر کرنے کی قباحت پر صریح دلالت کرتی ہے۔
اس لئے بعض اہل علم نے اس حدیث سے یہ استنباط کیا ہے۔
کہ صوفی قسم کے لوگ تن تنہا تہذیب نفس اور مزعومہ چلہ کشی کے نام پرصحرائوں اور بے آباد علاقوں کے جو سفر اخیتار کرتے ہیں۔
وہ بھی صریحا غلط اور مردود ہیں۔
ایسے ہی وہ چلہ کشی جو آجکل بزرگ اور ولی اللہ بننے کے چکر میں کی جاتی ہے۔
یہ بھی قرآن وحدیث کے منافی ہے۔
اس لئے ایسے تمام امور سے احتراز اور اجتناب ضروری ہے۔
کیونکہ یہ چیزیں بدعت ہیں۔
بدعت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمان ہے۔
کہ جس نے بھی دین اسلام میں کوئی نئی بات پیدا کی جو اس میں نہیں ہے وتو وہ مردود ہے۔
(صحیح البخاري، الصلح، حدیث: 2697)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2607 سے ماخوذ ہے۔