سنن ترمذي
كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُبْعَثُ وَحْدَهُ سَرِيَّةً باب: سریہ (جنگی ٹولی) میں کسی کو تنہا روانہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1672
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ فِي قَوْلِهِ : أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59 ، قَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيُّ : " بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ ، أَخْبَرَنِيهِ يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن عباس رضی الله عنہما` آیت کریمہ : «أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم» کی تفسیر میں کہتے ہیں : عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اکیلا ) سریہ بنا کر بھیجا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: حدیث میں «أولو الأمر» کے سلسلہ میں کئی اقوال ہیں، مفسرین اور فقہاء کے نزدیک اس سے مراد وہ «ولاۃ و أمراء» ہیں جن کی اطاعت واجب کی ہے، بعض لوگ اس سے علماء کو مراد لیتے ہیں، ایک قول یہ ہے کہ علما اور امرا دونوں مراد ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سریہ (جنگی ٹولی) میں کسی کو تنہا روانہ کرنے کا بیان۔`
ابن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم» کی تفسیر میں کہتے ہیں: عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اکیلا) سریہ بنا کر بھیجا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1672]
ابن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم» کی تفسیر میں کہتے ہیں: عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اکیلا) سریہ بنا کر بھیجا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1672]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حدیث میں 'أولو الأمر' کے سلسلہ میں کئی اقوال ہیں، مفسرین اور فقہاء کے نزدیک اس سے مراد وہ ولاۃ و أمراء ہیں جن کی اطاعت واجب کی ہے، بعض لوگ اس سے علماء کو مراد لیتے ہیں، ایک قول یہ ہے کہ علماء اور امرا دونوں مراد ہیں۔
وضاحت:
1؎:
حدیث میں 'أولو الأمر' کے سلسلہ میں کئی اقوال ہیں، مفسرین اور فقہاء کے نزدیک اس سے مراد وہ ولاۃ و أمراء ہیں جن کی اطاعت واجب کی ہے، بعض لوگ اس سے علماء کو مراد لیتے ہیں، ایک قول یہ ہے کہ علماء اور امرا دونوں مراد ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1672 سے ماخوذ ہے۔