حدیث نمبر: 1667
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قَال : سَمِعْتُ عُثْمَانَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : إِنِّي كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل : أَبُو صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ اسْمُهُ : تُرْكَانُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوصالح مولیٰ عثمان کہتے ہیں کہ` میں نے منبر پر عثمان رضی الله عنہ کو کہتے سنا : میں نے تم لوگوں سے ایک حدیث چھپا لی تھی جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس ڈر کی وجہ سے کہ تم مجھ سے جدا ہو جاؤ گے ۱؎ پھر میری سمجھ میں آیا کہ میں تم لوگوں سے اسے بیان کر دوں تاکہ ہر آدمی اپنے لیے وہی چیز اختیار کرے جو اس کی سمجھ میں آئے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی پاسبانی کرنا دوسری جگہوں کے ایک ہزار دن کی پاسبانی سے بہتر ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اس حدیث میں جہاد سے متعلق جو فضیلت آئی ہے اسے سن کر تم لوگ سرحدوں کی پاسبانی اور اس کی حفاظت کی خاطر ہم سے جدا ہو جاؤ گے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1667
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، التعليق الرغيب (2 / 152 / التحقيق الثانى) ، التعليق على الأحاديث المختارة (305 - 310)
تخریج حدیث «سنن النسائی/الجہاد 39 (3171) ، ( تحفة الأشراف : 9844) ، و مسند احمد (1/62، 65، 66، 75) ، سنن الدارمی/الجہاد 32 (2468) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3171

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سرحد کی حفاظت کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوصالح مولیٰ عثمان کہتے ہیں کہ میں نے منبر پر عثمان رضی الله عنہ کو کہتے سنا: میں نے تم لوگوں سے ایک حدیث چھپا لی تھی جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس ڈر کی وجہ سے کہ تم مجھ سے جدا ہو جاؤ گے ۱؎ پھر میری سمجھ میں آیا کہ میں تم لوگوں سے اسے بیان کر دوں تاکہ ہر آدمی اپنے لیے وہی چیز اختیار کرے جو اس کی سمجھ میں آئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی پاسبانی کرنا دوسری جگہوں کے ایک ہزار دن کی پاسبانی سے بہتر ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1667]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اس حدیث میں جہاد سے متعلق جو فضیلت آئی ہے اسے سن کر تم لوگ سرحدوں کی پاسبانی اور اس کی حفاظت کی خاطر ہم سے جدا ہو جاؤگے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1667 سے ماخوذ ہے۔