سنن ترمذي
كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل جہاد
باب فِي ثَوَابِ الشَّهِيدِ باب: شہید کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1661
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا غَيْرُ الشَّهِيدِ ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، يَقُولُ : حَتَّى أُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، مِمَّا يَرَى مِمَّا أَعْطَاهُ مِنَ الْكَرَامَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہید کے علاوہ کوئی جنتی ایسا نہیں ہے جو دنیا کی طرف لوٹنا چاہتا ہو وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہتا ہے ، کہتا ہے : ( دل چاہتا ہے کہ ) اللہ کی راہ میں دس مرتبہ قتل کیا جاؤں ، یہ اس وجہ سے کہ وہ اس مقام کو دیکھ چکا ہے جس سے اللہ نے اس کو نوازا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2817 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2817. حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’ کوئی شخص ایسا نہیں جو جنت میں داخل ہونے کے بعد واپس دنیا میں لوٹنے کی خواہش کرے اگرچہ اسے دنیا کی ہر چیز دینے کی پیش کش کردی جائے، مگر شہید۔ وہ دس بار یہ چاہے گا کہ دنیا میں واپس آئے اور اسے قتل کردیا جائے۔ یہ سب کچھ اللہ کے ہاں اپنے اعزاز اور اکرام کو دیکھنے کی وجہ سے ہوگا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2817]
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت جابر ؓسے فرمایا: ’’ کیا تجھے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے والد بزرگوار سے کیا کہا؟ آپ نے کہا کہ اللہ نے فرمایا: اے عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ!تم کسی خواہش کا اظہار کرو تاکہ اسے پورا کیا جائے۔
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا اللہ!مجھے زندہ کردے تاکہ تیرے راستے میں دوبارہ شہید ہو جاؤں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو پہلے سے طے شہد فیصلہ ہے کہ جو انسان دنیا سے آچکا ہے اسے کسی صورت میں واپس نہیں بھیجا جائے گا۔
‘‘ (جا مع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث 3010)
2۔
مذکورہ حدیث سے شہادت کی عظمت کا پتہ چلتا ہے دراصل بھلے کاموں میں صرف ایک جہاد ہے جس میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے اس لیے شہادت کی عظمت بھی بہت رکھی گئی ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت جابر ؓسے فرمایا: ’’ کیا تجھے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے والد بزرگوار سے کیا کہا؟ آپ نے کہا کہ اللہ نے فرمایا: اے عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ!تم کسی خواہش کا اظہار کرو تاکہ اسے پورا کیا جائے۔
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا اللہ!مجھے زندہ کردے تاکہ تیرے راستے میں دوبارہ شہید ہو جاؤں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو پہلے سے طے شہد فیصلہ ہے کہ جو انسان دنیا سے آچکا ہے اسے کسی صورت میں واپس نہیں بھیجا جائے گا۔
‘‘ (جا مع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث 3010)
2۔
مذکورہ حدیث سے شہادت کی عظمت کا پتہ چلتا ہے دراصل بھلے کاموں میں صرف ایک جہاد ہے جس میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے اس لیے شہادت کی عظمت بھی بہت رکھی گئی ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2817 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1877 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی انسان نہیں ہے، جو فوت ہوا اور اس کے ہاں اچھا مقام ہو کہ اسے دنیا میں واپس آنا پسند ہو، اگرچہ اسے دنیا و مافیھا [صحيح مسلم، حديث نمبر:4867]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: شہید کو اس لیے یہ مقام ملا ہے کہ اس کی روح جنت میں حاضر ہوتی ہے، جبکہ عام مسلمانوں کی ارواح وہاں قیامت کو پہنچیں گی، اللہ اور اس کے فرشتے ان کے جنتی ہونے کی گواہی دیتے ہیں اور وہ روح نکلتے ہی اپنی عزت اور اجر و ثواب کا مشاہدہ کر لیتے ہیں، موت کے وقت فرشتے ان کے پاس حاضر ہوتے ہیں اور ان کی روح لے جاتے ہیں، ان کی ظاہری حالت ان کے ایمان اور خاتمہ بالخیر کی گواہ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1877 سے ماخوذ ہے۔