حدیث نمبر: 1652
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ ؟ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَتْلُوهُ ؟ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ فِيهَا ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ ؟ رَجُلٌ يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تم لوگوں کو سب سے بہتر آدمی کے بارے میں نہ بتا دوں ؟ یہ وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے رہے ، کیا میں تم لوگوں کو اس آدمی کے بارے میں نہ بتا دوں جو مرتبہ میں اس کے بعد ہے ؟ یہ وہ آدمی ہے جو لوگوں سے الگ ہو کر اپنی بکریوں کے درمیان رہ کر اللہ کا حق ادا کرتا رہے ، کیا میں تم کو بدترین آدمی کے بارے میں نہ بتا دوں ؟ یہ وہ آدمی ہے جس سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگا جائے اور وہ نہ دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1652
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (255) ، التعليق الرغيب (2 / 173)
تخریج حدیث «سنن النسائی/الزکاة 74 (2570) ، ( تحفة الأشراف : 5980) ، و مسند احمد (1/237، 319، 322) ، سنن الدارمی/الجہاد 6 (2400) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2570

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2570 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس شخص کا بیان جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ نہ دے۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں لوگوں میں مرتبہ کے اعتبار سے بہترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کا سر تھامے رہے یہاں تک کہ اسے موت آ جائے، یا وہ قتل کر دیا جائے، اور میں تمہیں اس شخص کے بارے میں بتاؤں جو مرتبہ میں اس سے قریب تر ہے۔‏‏‏‏ ہم نے عرض کیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2570]
اردو حاشہ: (1) گھوڑا لیے پھرتا ہے۔ یعنی جہاد کرتا ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ مطلقاً اعلیٰ عمل ہے۔ اور پہاڑ کی گھاٹی میں علیحدہ رہنا صرف اس وقت افضل ہے جب دین کی حفاظت مقصود ہو اور لوگوں میں رہ کر دین پر قائم رہنا انتہائی مشکل ہو جائے، ورنہ لوگوں میں رہنا اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرنا ہی افضل ہے۔ رہبانیت کی اجازت نہیں۔
(2) لوگوں کے شر سے۔ یعنی اپنے دین کو محفوظ کر لیتا ہے، یا یہ مطلب ہے کہ لوگوں کو تکلیف نہیں پہنچاتا۔ اپنے شر سے لوگوں کو محفوظ رکھنا بھی بڑی فضیلت ہے۔
(3) [اَلَّذِیْ یَسْأَلُ بِاللّٰہِ] کویُسْأَلُ (مجہول) بھی پڑھا گیا ہے، جس کا ترجمہ ہوگا: جس سے اللہ کے نام پر سوال کیا جائے لیکن وہ نہ دے۔ پہلے مفہوم میں دو قباحتیں جمع ہوجاتی ہیں: لوگوں سے مانگنا بھی اور خود نہ دینا بھی، جبکہ دوسرے مفہوم میں صرف ایک قباحت ہے۔ الفاظ حدیث دونوں مفہوم کے متحمل ہیں۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2570 سے ماخوذ ہے۔